جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،ججز تعیناتی رولز2024کی چند ترامیم کیساتھ منظوری دیدی

22 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (رپورٹ : عاصم جاوید) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ججز تعیناتی رولز 2024 کی چند ترامیم کیساتھ منظوری دیدی جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کیلئے نامزد ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ گزشتہ روز جاری اعلامیہ کے مطابق ہفتہ کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بطور چیئرمین دونوں اجلاسوں کی صدارت کی۔ ذرائع کے مطابق آئینی بنچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا۔ ووٹنگ میں سات ممبران نے آئینی بنچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سپریم کورٹ کے تمام ججز کو آئینی بنچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔ جوڈیشل کمیشن نے آئینی بنچ کو چھ ماہ کیلئے توسیع دے دی۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا رولز سے متعلق اجلاس ہوا جس میں چند قواعد میں معمولی رد و بدل کے ساتھ رولز کی منظوری دے دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ججز تعیناتی رولز 2024 کے تحت ایڈیشنل ججز کیلئے نامزدگیاں تین جنوری تک طلب کر لی گئیں ، ایڈیشنل ججز کیلئے نامزدگیاں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی اور ایڈیشنل ججز کیلئے پہلے سے بھیجے گئے نام متفقہ طور پر واپس لے لئے گئے ، نئے ایڈیشنل ججز کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے ، کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مطابق حتمی ڈرافٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیلئے تین نام زیر غور آیا کریں گے اور سینئر ترین جج کو چیف جسٹس ہائیکورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازم ہوں گی جبکہ سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کیلئے ہائیکورٹ سے پانچ نام آیا کریں گے۔ ادھر اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہفتے کی صبح 11 شروع ہوا جو آٹھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (ججز تقرری) رولز 2024 کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے مجوزہ قواعد پر موصول ہونے والے عوامی تاثرات کا بھی جائزہ لیا اور وسیع غور و خوض کے بعد مجوزہ جوڈیشل کمیشن (ججز تقرری) رولز 2024 کی چند ترامیم کے ساتھ منظوری دیدی۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے دوسرے اجلاس میں کثرت رائے سے سپریم کورٹ کے آئینی بنچوں کیلئے پہلے سے نامزد ججوں کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔ جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس منیب اختر (بذریعہ ویڈیو لنک) ، جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل ، پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان و سینئر ترین ججز ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ، اراکین قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد ، بیرسٹر گوہر علی خان ، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر ، سینیٹر فاروق ایچ نائیک ، سپیکر قومی اسمبلی کے نامزد رکن روشن خورشید بھروچہ ، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بحیثیت وزیر قانون بلوچستان ، وزیر قانون پنجاب شعیب احمد ملک ، وزیر پارلیمانی سندھ ضیا الحسن لنجار ، وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم آفریدی ، ممبر پنجاب بار کونسل شمشاد احمد باجوہ ، رکن سندھ بار کونسل قربان علی ملانو ، خیبر پختونخوا بار کونسل کے رکن منیر حسین لغمانی ، بلوچستان بار کونسل کے رکن محمد ایوب ترین اور جوڈیشل کمیشن اسلام آباد کے رکن رانا محمد تنویر نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ جبکہ دوسرے اجلاس میں جسٹس سید منصور علی شاہ ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان ، اراکین قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد ، بیرسٹر گوہر علی خان ، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر ، سینیٹر فاروق ایچ نائیک ، سپیکر قومی اسمبلی کی نامزد کردہ روشن خورشید بھروچہ اور اختر حسین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے شرکت کی۔