فیصل آباد (شہباز احمد) فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کے دوسرے روز کا آغاز "تخلیقی ادب کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت" کے موضوع پر گفتگو سے ہوا۔ اس سیشن میں طاہرہ اقبال نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو ادب کی تخلیق کے حوالے سے چیلنج نہیں سمجھتی ہیں کیونکہ حقیقی ادب بنے بنائے طریقوں سے ہٹ کر چلنے کا نام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب تخلیق کرنے کے لئے مصنوعی ذہانت انسانی کمانڈ کی محتاج ہے اور اسےکمانڈ دینے کے لئے بھی تخلیقی ذہن کا ہونا ضروری ہے۔ ناصر عباس نیر نے کہا کہ مصنوعی زہانت جن ذرائع سے معلومات حاصل کرکے ادب تخلیق کرتی ہے وہ ویب آف ٹیکسٹ ہے اور ابھی اس کے پاس دستیاب اردو کا ڈیٹا سیٹ انگریزی کے مقابلے میں کم ہے، محمد حمید شاہد نے کہا تخلیقی ادب کو مصنوعی ذہانت کا جو چیلنج درپیش ہے آنے والے وقت میں اس کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی نے کہا آرٹیفشل انٹیلیجنس تخلیق کے بنیادی عمل کو سمجھ چکی ہے، اب کتابیں "ای بکس" کی شکل میں پڑھی جا رہی ہیں۔ سیشن میں میزبان کے فرائض قاضی علی ابوالحسن نے ادا کئے۔ دوسرے سیشن کا موضوع "گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک" تھا جس میں استاد دامن، احمد راہی، امرتا پریتم، شوکمار بٹالوی اور ہندوستان کی تقسیم کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ ثروت محی الدین نے کہا کہ چاروں شاعروں نے اپنے اپنے انداز میں تقسیم کے دکھ کا اظہار کیا ہے،نئی نسل اس بارے میں بہت کم جانتی ہے کہ جسے ہم آزادی کہتے ہیں اس میں یہاں لوگوں پر کتنا ظلم ہوا تھا۔ زبیر احمد نے کہا کہ استاد دامن تقسیم سے پہلے کانگریس کے جلسوں میں اپنی شاعری پڑھتے تھے تقسیم کے وقت انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا اور وہ اپنی بیوی اور بیٹے سے محروم ہو گئے لیکن جب نہرو نے انہیں کہا کہ وہ مستقل طور پر ہندوستان آ جائیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "میں پاکستان ہی میں رہوں گا بیشک مجھے جیل میں رہنا پڑے۔" ڈاکٹر خولہ چیمہ نے کہا کہ تقسیم کے بعد شیو کمار بٹالوی کی شاعری میں رومانویت کم ہو گئی تھی اور انہوں نے اس دکھ کو زیادہ بیان کیا جو یہاں کے لوگوں پر بیتا تھا۔ اس سیشن کے میزبان ڈاکٹر توحید چٹھہ تھے۔ تیسرے سیشن میں کشور ناہید کی کتاب "بری عورت کی کتھا" کے انگریزی ترجمے "این ادر سٹوری آف دی بیڈ وومن" پر گفتگو ہوئی۔ کشور ناہید نے کہا اندھیرے ، اکیلے پن کے بعد اب انہیں بڑھاپے کا بھی کوئی ڈر نہیں ، دماغ کو تازہ رکھنے کے لئے مسلسل پڑھنا اور لکھنا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے کہا آج کی نسل کو جو تھوڑی بہت آزادی حاصل ہے وہ کشور ناہید اور ان کے ہم عصروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے، سیشن میں میزبان کے فرائض ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے ادا کئے۔ چوتھے سیشن میں "دنیا تیرا حسن یہی بدصورتی ہے" کے عنوان سے منٹو کے فن اور زندگی پر گفتگو میں ان کی بیٹیوں نصرت منٹو، نزہت منٹو، نگہت منٹو اور اصغر ندیم سید نے حصہ لیا۔ منٹو کی سب سے بڑی بیٹی نگہت منٹو نے کہا کہ ان کی اپنے والد کے ساتھ بہت زیادہ تصاویر ہیں لیکن ان کا بڑا ذخیرہ شاید بمبئی میں ہی رہ گیا تھا کیونکہ وہاں سے آتے ہوئے وہ دو اٹیچی کیس ہی ساتھ لا سکے تھے۔ نذہت منٹو نے کہا کہ منٹو کے افسانوں پر مقدمات بنانے والے وکیل اور جج آج کسی کو یاد نہیں لیکن منٹو کو آج بھی ایک زمانہ یاد کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو بمبئی سے بہت محبت تھی کیونکہ ان کے کم عمری میں انتقال کر جانے والے بھائی کی آخری آرام گاہ وہیں ہے، انہیں نہ چاہتے ہوئے بمبئی سے لاہور آنا پڑا۔ نصرت منٹو نے کہا ان کی پیدائش پر ان کی نانی نے غم کا اظہار کیا تھا کہ پھر بیٹی پیدا ہو گئی جس پر منٹو نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ والد کے افسانوں میں عورتوں کے حالات اور تاثرات کی حقیقی عکاسی سے بہت متاثر ہیں۔ اصغر ندیم سید نے کہا کہ منٹو نے ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے کرداروں اور معاشرتی منافقت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ ان کا فن اس زمانے اور آنے والے زمانوں تک زندہ رہے گا۔ منٹو کی کہانی ٹوبہ ٹیک سنگھ اردو کی واحد کہانی ہے جو دنیا کی سو بڑی کہانیوں میں شامل کی گئی ۔ اس سیشن کی میزبان شیبا حیدر تھیں۔ پانچویں سیشن میں تین کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ پہلی کتاب زبیر احمد کی "الف اللہ رتا دل میرا" تھی جس کا تعارف ثروت محی الدین نے پیش کیا۔ دوسری کتاب "ٹرانسلیشن ہیومینٹیز ان ساوتھ ایشیا" تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر وسیم انور، نوشین یوسف اور ڈاکٹر علی عثمان سلیم شریک گفتگو ہوئے۔ تیسری کتاب احمد عدنان طارق کی مرتب کردہ "داستان امیر حمزہ" تھی جس کا تعارف قاضی علی ابوالحسن نے پیش کیا۔ چھٹے سیشن میں "زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے" کے عنوان سے تھا جس میں روشانے ظفر، مصطفی آفریدی، سیفی حسن اور ریحان شیخ شریک گفتگو ہوئے۔ روشانے ظفر نے کہا ڈرامہ بہترین میڈیم ہے۔ مصطفی آفریدی نے کہا کہ فیض اور منٹو جیسے لیجنڈز آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ، سیفی حسن نے کہا کہ یہ ڈرامہ صرف معاشرے کی عکاسی نہیں ہے بلکہ اس میں امید بھی ہے۔ ریحان شیخ نے کہا کہ ملکی حالات کی طرح آج کل ڈرامہ بھی ہنگامی حالات میں بن رہا ہے۔ ساتواں سیشن فریال گوہر کے انگریزی ناول "این ابنڈنس آف وائلڈ روزز" کی بک لانچ تھا۔ فریال گوہر نے کہا کہ یہ ناول گلگت بلتستان سے متعلق ہے ،ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا تھیسس بھی اسی علاقے کی ثقافت پر تھا اور اب وہ دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آنے والے کلچرل ہیرٹیج کی بحالی پر کام کر رہی ہیں۔ سیشن کے میزبان عمار یاسر تھے۔ آٹھواں سیشن "بزبان قاسمی" کے عنوان سے تھا جس میں عطا الحق قاسمی نے اپنی مختلف کتابوں میں سے منتخب تحریروں کو پڑھا جس سے شرکاء بہت لطف اندوز ہوئے۔ نواں سیشن "سر سنگیت" کے عنوان سے تھا جس میں غلام عباس نے اپنے فن اور زندگی پر گفتگو کے علاوہ مختلف غزلیں اور کلام بھی گایا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔ فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا اختتام اجوکا تھیٹر کے ڈرامے "بالا کنگ" سے ہوا جس میں فنکاروں کی پرفارمنس پر شائقین نے دل کھول کر داد دی۔
راولپنڈی ا ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب امجد حفیظ نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ گندم کی سپلائی کے نظام کو مزید...
اسلام آباد انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں اس بات پر تشویش کا...
فیصل آباد سینئر سیاستدان و سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ مہنگے...
پشاور کوہستان کے 40 ارب روپے کے میگا اسکینڈل میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انکشاف ہوا ہے کہ ایک رکن قومی...
اسلام آباد وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس،امین الدین خان نے ایک بار پھر آئینی مینڈیٹ کا اعادہ کرتے ہوئے...
کراچی تجزیہ کاروں ڈاکٹر ماریہ سلطان، سلیم صافی، سید محمد علی اور اعزاز سید نے کہا کہ اصل مسئلہ ٹیکنیکل...
لاہور سابق قومی سلامتی مشیر جنرل ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ دنیا ایک گہرے اور بنیادی تغیر سے گزر رہی ہے...
کراچی کیا امریکا نے ایران کی شرط مان لی؟ ہرمز پہلے، جوہری معاملہ بعد میں، واشنگٹن نے ہرمز میں بحری مشن عارضی...