حکومت کا پلانٹ پروٹیکشن محکمے کی تنظیم نو کا فیصلہ

22 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (اسرار خان) زرعی پیداوار برآمد کرنے میں مشکلات بیرون ملک کنسائنمنٹس کی واپسی کا سامنا کرتے ہوئے حکومت نے پلانٹ پروٹیکشن کے محکمے (ڈی پی پی) کی تنظیم نو کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کے آپریشنز کو جدید بنایا جا سکے، کارکردگی میں اضافہ ہو اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہو سکے۔ اس اقدام کا مقصد ڈی پی پی کے اندر دیرینہ مسائل بشمول فرسودہ انتظامی طریقوں، خطرے کی تشخیص کے غیر موثر نظام، اور برآمدی سامان کے لیے بین الاقوامی سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری (ایس پی ایس) معیارات کی تعمیل میں مشکلات کو حل کرنا ہے۔ فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تنظیم نو میں گورننس میں اصلاحات، انتظامی ماڈل میں بہتری اور اس کی لیبارٹریوں کی آؤٹ سورسنگ شامل ہوں گی۔ نئے گورننس فریم ورک کے تحت ڈی پی پی ایک پیشہ ور، خودمختار ڈھانچے میں تبدیل ہو جائے گا۔ قانونی تحفظ کے ساتھ ایک کارپوریٹ ادارہ قائم کیا جائے گا، جس کی رہنمائی ایک مشاورتی کونسل کرے گی جس میں سائنسدان، وفاقی اور صوبائی نمائندے، اور صنعت کے اہم اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔ اس گورننس اصلاحات کا مقصد غیر جانبداری کو یقینی بنانا اور محکمے کی تاثیر کو بڑھانا ہے۔ آپریشنز کو ہموار کرنے کے لیے، سروے، معائنہ، لیبارٹری ٹیسٹنگ، اور فیومیگیشن جیسے اہم کام آؤٹ سورس کیے جائیں گے۔ یہ تبدیلی ڈی پی پی کو جدید زرعی تجارت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کارکردگی اور موافقت میں اضافہ کرتے ہوئے اسٹریٹجک نگرانی پر توجہ مرکوز کرنے کی اجازت دے گی۔