پنجاب اسمبلی کے اراکین، وزراء اور مشیروں کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب پاکستان پیچیدہ اور سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی بیانات معیشت میں بہتری کے دعوے کر رہے ہیں، تو دوسری طرف عوام شدید مہنگائی، بے روزگاری، اور غربت کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک طرف اسمبلی اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں بھاری اضافہ دوسری طرف سرکاری ملازمین کی پنشنیں بھی کم کر دی گئیں۔ ایسے وقت میں، جب عوام کی بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے، اس قسم کے فیصلے عوامی اضطراب کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ آیا حکومتی نمائندوں کو یہ اضافی مراعات عوام کی خدمت کے معیار کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں یا صرف انہیں مزید آسودگی پہنچانے کیلئے؟ اس کے برعکس، دنیا کے معاشی لحاظ سے مضبوط ترین ممالک جیسے کہ امریکہ میں بھی عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں اضافے پر وسیع بحث اور تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ تقابلی جائزہ ہمارے فیصلوں کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عوام کیلئے باعثِ تشویش ہے بلکہ یہ معاشی نظام کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اضافے کے بعد دوبارہ سے مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں 4800پوائنٹس کی کمی ملکی تاریخ میں ایک کاروباری دن میں انڈیکس میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ دو دنوں میں ہونےیہ والی مندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی میں کمی آ رہی ہے، شرح سود کم ہو رہی ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ اشیائے ضروریہ، گیس، بجلی اور ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔صنعتی ترقی کے فقدان اور کاروباری مواقع کی کمی نے نوجوان نسل کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ٹیکس کے بڑھتے بوجھ اور برآمدات میں کمی نے معیشت کو مزید دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نظام کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ٹیکس نظام کی حالت ابتر ہے۔ یہاں صرف چند فیصد افراد اور ادارے ٹیکس دیتے ہیں، جبکہ باقی آبادی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے اور عوام مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ٹیکس ریفارمز کے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو ایک ایسی پالیسی اپنانا ہوگی جو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، تاکہ ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔ بجائے اس کے کہ عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالا جائے حکومت کو چاہیے کہ زیادہ آمدنی والے طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔حکومتی شاہ خرچیوں کو کنٹرول کیا جائے۔کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹیکس وصولی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت لائی جائے اور چھوٹے کاروباروں کو رعایت دے کر معیشت میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ پاکستان کی برآمدات میں کمی معاشی بحران کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور یہ معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبے، جو ہماری برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، بدانتظامی، تحقیق کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کا شکار ہیں۔ ان حالات میں، آئی ٹی ایک ایسا شعبہ ہے جو برآمدات کے فروغ اور معیشت کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ آئی ٹی ایک ایسا شعبہ ہے جو موجودہ بحران میں امید کی کرن بن سکتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان آئی ٹی کے میدان میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، جنہیں صحیح رہنمائی اور سہولیات فراہم کی جائیں تو معیشت کیلئےکارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔آئی ٹی برآمدات میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔اس شعبے کی ترقی کیلئےضروری ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں عالمی معیار کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔آئی ٹی کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت اور سبسڈی فراہم کی جائے اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کیلئے حکومتی پالیسیوں میں نرمی اور معاونت فراہم کی جائے۔حکومتی سطح پر یہ ادراک بہت ضروری ہے کہ معاشی استحکام عوام کو ریلیف دیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو فوری طور پر عوام کے مسائل حل کرنےکیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔جس کیلئے ضروری ہے کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کیلئے سبسڈیز دی جائیں۔ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس عمل کو مزید بہتر بنانے کیلئے حکومتی مشینری کو بھی فعال کیا جانا ضروری ہے۔گیس کی قیمتوں میں متوقع اضافہ روکا جائے اور عوامی سہولت کیلئے بجلی کے نرخوں میں مزید کمی کی جائے۔ صنعتوں کو ترقی دے کر اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھا کر روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کر کے ان کا اعتماد بحال کرنا بہت ضروری ہے اور اس کیلئے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے، تاکہ صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ برآمدات بڑھانےکیلئے نئی منڈیوں کی تلاش اور موجودہ صنعتوں کی ترقی ضروری ہے۔ملکی معیشت کو بحران سے نکالنا ایک مشکل کام ضرور ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں۔ حکومتی عزم، شفافیت، اور موثر منصوبہ بندی سے ہم ایک مستحکم، خودکفیل اور خوشحال پاکستان کا خواب حقیقت بنا سکتے ہیں۔
( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)
مزید خبریں
-
نظر آئے گی مہنگائی ہی مہنگائیپہنچ سکتی ہے بینائی جہاں تک بجٹ سے قبل بھی تھی آسماں پرنہ جانے اب یہ اُونچی ہو...
-
لائیک……مبشر علی زیدیآج ٹیپو نے فیس بک پر کافی احمقانہ پوسٹ کی،میں نے بے زاری سے کہا۔واقعی احمقانہ تھی،...
-
پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی...
-
یہ پھل اور سبزیاں جنہیں ہم آج پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ نوشِ جاں کرتے ہیں کہ ان کے ذائقوں اور ان کے طریق...
-
پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں دفاع اور خارجہ امور کے حوالے سے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ملک کی معاشی...
-
مملکت خداداد اسلامیہ میں ہر خاص و عام نفسیاتی ہیجان میں مبتلا ، ایک نکتہ پر متفق کہ مملکت مالی معاشی مشکلات سے...
-
کوئٹہ کی نوجوان معالج ڈاکٹر ماہ نورپر تیزاب گردی کا حالیہ اندوہناک واقعہ محض ایک فردِ واحد پر حملہ نہیں، بلکہ...
-
گزشتہ دنوں گلگت بلتستان میں ہونیوالے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس نے اس...