وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھا دیئے

05 جنوری ، 2025

اسلام آباد (نمائندہ جنگ ) وفاقی وزارت خزانہ نےآئل اینڈ گیس سیکٹرکےمالیاتی نظام پر سوالات اٹھائے ہوئے پی ایس او،پاکستان پٹرولیم لمٹیڈ،اوجی ڈی سی ایل،سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کامالیاتی نظام غیرموثر قرار دے دیا ہے-وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ان تیل و گیس کمپنیوں کا انفراسٹرکچر دقیانوسی اورغیر موثر ہوچکاہے۔تمام پانچ کمپنیوں غیر موثر انفرا سٹر کچر کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق پاکستان ا سٹیٹ آئل سرکلر ڈیٹ سائیکل میں ٹریپ ہوگیا ہے جس نے اس کی ورکنگ کیپٹل کی ضر وریات کو پورا کرنے اور پراجیکٹس میں سر مایہ کا ری کرنے کی استعداد کو متاثر کیا ہے۔اسی طرح ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی پی ایل ( گیس کمپنیوں) کے وصولی کے ایشوز نے ان کی مالی پوزیشن کو کمزور کیا ہے جس کی وجہ سے ان کا حکومت کی مالی سپورٹ پر انحصار بڑھا ہے۔۔انرجی سیکٹرمیں گردشی قرضے کے باعث کیش فلوزکےمسائل پیدا ہوگئے ہیں اورعدم ادائیگیوں کے باعث واجبات بڑھ گئے ہیںجس سے لیکو ڈیٹی متا ثرہورہی ہے۔واجبات بڑھنے سےکمپنیوں کی معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے- دستاویز کے مطابق سرکاری اداروں کاحکومتی سپورٹ پر انحصار بڑھ گیاہے۔پرانی ٹیکنالوجی کےباعث پیداوارکم اورآپریشنل لاگت زیادہ ہے ۔ گیس کے ترسیلی اور تقسیمی نظام میں لاسز کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ نے یہ رائے دی ہے کہ بزنس پلان کےذریعے ریونیو لاسز محدود اور آپریشنل کارکردگی بہتربنائی جاسکتی ہے-وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ مالیاتی نظام کوبہتربناکرگردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔