جس حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں اس سے کس بات کے مذاکرات ہورہے ہیں، محمود اچکزئی

05 جنوری ، 2025

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت ، پی ٹی آئی مذاکراتی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جس حکومت کے پاس جائز مینڈیٹ ہی نہیں اس سے کس بات کے مذاکرات ہو رہے ہیں؟ ہم مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا کریں گے مگر جہاں یہ معاملہ ہو وہاں دعا قبول نہیں ہوتی۔جعلی حکومت ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے، ملک میں آئین کوبحال اورچوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ گزشتہ روز ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف میرے دوست ہیں لیکن وہ جنرل پرویز مشرف کے وزیر اعظم بننے کیلئے بھی تیار تھے، نواز شریف نے ہمت کر کے شہباز شریف کو روکا مگر اب نواز شریف بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں،یہاں قلم اور اسمبلی میں بولنے پر پابندی ہے، معاملات اب ہمسائیہ ملک افغانستان پر بمباری تک پہنچ چکے ہیں، آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے،یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بیٹھیں اور اس خطے کو میدان جنگ نہ بننے دیں، محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ زمین میں جہاں بھی معدنیات ہیں وہاں فوج اور نیم فوجی دستے آتے ہیں، جہاں معدنیات ہیں وہاں کے لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہیے اور انہیں حصہ ملنا چاہئے۔