چین کے تبت میگا ہائیڈرو پاور ڈیم منصوبے کی نگرانی کرینگے، بھارتی وزیر خارجہ

05 جنوری ، 2025

نئی دہلی (خبرایجنسی) بھارت نے گزشتہ روز کہا کہ اس نے تبت میں میگا ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کےمنصوبے کے بارے میں چین کے ساتھ خدشات کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ ہمارے مفادات کے تحفظ کے لیے نگرانی اور ضروری اقدامات کرے گا۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ دریائےبرہم پترا کے نیچے کی طرف ریاستوں کے مفادات کو اوپر والے علاقوں کی سرگرمیوں سے نقصان نہ پہنچے۔رندھیرجیسوال نے بتایا کہ نئی دہلی ہمارے مفادات کے تحفظ کے لیے نگرانی اور ضروری اقدامات کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے دریائی پانیوں پر حقوق قائم کیے ہیں اور چینی علاقے میں دریاؤں پر بڑے منصوبوں پر اپنے خیالات اور خدشات کا مسلسل اظہار کیا ہے۔اگر یہ ڈیم تعمیر ہوتا ہے، تو یہ وسطی چین میں دریائے یانگسی پر بننے والے ریکارڈ تھری گورجز ڈیم سے بڑا ہوگا،جس کے ممکنہ طور پر بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں افرادپر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی ایک رپورٹ نے گزشتہ ماہ دریا ،جسے تبت میں یارلونگ سانگپو اور بھارت میں برہم پترا کے نام سے جانا جاتا ہے ،پر منصوبے کا اعلان کیا تھا،جواسے بیجنگ کے کاربن غیر جانبداری کے اہداف اور تبت کے علاقے میں اقتصادی اہداف سے منسلک کرتاہے۔