وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے الیکشن کمیشن کے نوٹس کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

05 جنوری ، 2025

پشاور (این این آئی) اثاثوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے دوبارہ نوٹس کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نوٹسز جاری کرنے کا مقصد وزیر اعلیٰ کو ہراساں کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن نوٹسز کے ذریعے وزیر اعلیٰ کے سر پر تلوار لٹکانا چاہتا ہے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست گزار صوبے کا وزیراعلیٰ اورصوبائی حلقہ 113 سے منتخب رکن اسمبلی ہے۔درخواست کے مطابق وزیر اعلی ٰعلی امین گنڈاپور نے اپنے اثاثوں اور گوشواروں سے متعلق تمام ریکارڈ الیکشن سے پہلے متعلقہ حکام کے پاس جمع کروایا تھا۔ الیکشن کمیشن نے جانچ پڑتال کے بعد درخواست گزار کو اہل قرار دیا تھا۔ الیکشن کے بعد گزشتہ سال اپریل میں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلی کو اثاثوں سے متعلق نوٹس جاری کیا گیا۔ مذکورہ نوٹس پشاور ہائیکورٹ نے معطل کیا اور الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکدیا۔ اب الیکشن کمیشن نے دوبارہ گزشتہ سال 20 نومبر کواثاثوں سے متعلق وزیر اعلی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جب ایک بار کامیاب امیدوار کا اعلامیہ جاری ہو جائے تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس کارروائی کا اختیار نہیں رہتا۔ الیکشن ٹربیونلز کے قیام کے بعد انتخابی معاملات کی سماعت کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس نہیں رہتا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نوٹس سیاسی انتقام کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے اسے معطل کیا جائے اور کارروائی روک دی جائے۔