دس ماہ گزر گئے، کابینہ میں مزید توسیع نہ ہوسکی، پیپلز پارٹی بھی شامل نہ ہوئی

05 جنوری ، 2025

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) دس ماہ گزرنے کے باجود شہبازحکومت میں نہ توپیپلزپارٹی شامل ہوئی اورنہ ہی کابینہ میں مزید توسیع ہوسکی- متعدد وزارتیں اور ڈویژنز وفاقی وزراءسےمحروم ہیں،کن بارہ وزراء کے پاس وزارتوں کے اضافی قلم دان ہیں ؟ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کااگلے ہفتے وفاقی کا بینہ میں توسیع کا فیصلہ ۔ کابینہ میں دس سے بارہ وزراء مزید شامل کئے جائیں گے ،وفاقی کابینہ میں توسیع نہ ہونےکے باعث وزارتیں اورڈویژنز زیادجبکہ وزیرکم پڑگئے ہیں-شہبازحکومت کے دس ماہ گزرنے کے بعد بھی متعددوزارتیں اور ڈویژنز وفاقی وزراءسےمحروم ہیں- تمام چالیس وفاقی وزارتوں وڈویژنز کےلیےاٹھارہ وفاقی وزراءہیں،متعددوزارتوں اور ڈویژنز کو اضافی قلمدانوں کے ذریعے چلایا جارہا ہے یا وزیر اعظم نے قلمدان اپنے پاس رکھ لیے ہیں-وزیر اعظم کی کابینہ کوئی خاتون وفاقی وزیر بھی شامل نہیں ہے۔کابینہ ڈویژن کےذرائع کےمطابق شہبازشریف کی بطور وزیراعظم تعیناتی کا نوٹیفکیشن 4مارچ 2024کوہوا تھااس کے بعدسےلیکراب تک کئی اہم وزارتوں اورڈویژنزکواضافی قلمدانوں کے ذریعےچلایاجاریا ہے یاوزیراعظم نےقلمدان اپنےپاس رکھے ہوئے ہیں- ذرائع کےمطابق اس وقت صحت،بین الصوبائی رابطہ،آئی ٹی اورموسمیاتی تبدیلی کی وزارتیں وفاقی وزرا سےمحروم ہیں جبکہ وزارت ریلویزکاقلمدان بھی وزیراعظم نےاپنےپاس رکھاہوا ہے-ذرائع کاکہنا کہ وزیراعظم نیشنل سیکیورٹی ڈویژن،کابینہ ڈویژن اورتخفیف غربت وسماجی تحفظ ڈویژن کےانچارج وزیربھی خودہیں جبکہ وزیراعظم نےتوانائی کی وزارت کابھی وفاقی وزیرنہیں لگایا،وزارت توانائی کےدونوں ڈویژنز یعنی پاوراورپیٹرولیم کےالگ الگ وزیربنائےگئے ہیں،اویس لغاری پاوراور مصدق ملک پیٹرولیم ڈویژن کے وزیر ہیں،مصدق ملک کووزارت آبی وسائل کااضافی قلمدان بھی تفویض کیاگیاہے-