اتحاد برائے خوشحالی

اداریہ
05 جنوری ، 2025

نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے پختہ عزم کااظہارکرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے جاری جھوٹے پروپیگنڈے کے سدباب کی ضرورت واضح کی اور کوئی شبہ نہیں کہ ان دونوں مسائل سے نمٹے بغیر امن و استحکام کا قیام اور بے یقینی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں موجودہ حکومت کے محض دس ماہ میںجو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ، موجودہ نظام کے شدید ترین مخالفوں کیلئے بھی ان سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم اس رجحان کی پائیدار بنیادوں پر استواری کیلئے امن و امان کی مکمل بحالی اور سیاسی اختلافات کو ملک دشمنی میں بدل دینے کی روش کا خاتمہ لازمی ہے۔ سیاسی اختلاف کی اس روش کا مظاہرہ پچھلے چند برسوں میں وفاقی دارالحکومت پر کئی بار یلغار، سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے اور ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوششوں کی شکل میں ہوتا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ذمے داروں کو باقاعدہ خطوط تک لکھے گئے ہیں۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے اسی حوالے سے کہا کہ پچھلے دنوں اسلام آباد پر جو یلغار ہوئی اور سوشل میڈیا نے جھوٹ اور حقائق کو مسخ کرنے کا جو طوفان اٹھایا حالیہ وقتوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی‘ اگر اس طوفان کو نہ روکا تو ہماری تمام کاوشیں دریا بُرد ہوجائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان سے باہر بیٹھے دوست نما دشمن اور ایجنٹ جو زہر اگل رہے ہیں اورجس طرح وہ پاکستان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں یہ بذات خود ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے‘ جھوٹ اورحقائق کومسخ کرکے پاکستان کے خلاف ماحول بنایا جارہا ہے‘ ڈیجیٹل دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے‘دشمن مذموم مقاصد کیلئے گھات لگائے بیٹھا ہے‘ ہمیںپاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث عناصرکا پوری طرح علم ہے۔ تاہم ہر محب وطن اور باشعور پاکستانی کیلئے یہ امر خوش آئند ہے کہ اختلافات کا حل تلاش کرنے کیلئے سیاسی حکومت کے بجائے عسکری قیادت سے بات چیت پر مصر اپوزیشن بالآخر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہوگئی ہے اور یہ عمل شروع بھی ہوچکا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں جانب سے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک کے محفوظ اور روشن مستقبل کو مطمح نظر بنایا جائے ۔ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن دونوں پالیسی سازی اور فیصلوں میں تعمیری کردار کریں‘ کوشش کی جائے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے ہو جائے ، سیاسی قیادتیں بے بنیاد الزام تراشی کی سیاست ترک کرکے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے قابل عمل پروگرام تشکیل دینے اور عوام کے سامنے پیش کرنے پر توجہ دیں ، اختلاف برائے اختلاف کے بجائے اختلاف برائے اصلاح کا رویہ اپنایا جائے۔ سیاسی طاقتوں کا یہ کردار یقینی طور پر ملک سے سیاسی انتشار کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا اور اس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھی وہ ماحول میسر نہیں رہے گا جس میں ان کیلئے اپنی کارروائیاں انجام دینا آسان ہوجاتا ہے۔ جس فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کا عزم وزیر اعظم نے ظاہر کیا ہے وہ تمام سیاسی مکاتب فکر اور ریاستی اداروں کے باہمی اتحاد ہی سے ممکن ہے۔ ان کا یہ کہنا حقائق کے عین مطابق ہے کہ دشمن کے گھس بیٹھیوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے ’’وفاق، صوبوں اوردفاعی اداروں کو مل کر مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ایجنڈا اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کہ ہم سب مل کر چاروں صوبوں،وفاق، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں امن و امان قائم کریں۔‘‘