کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام’’ جرگہ ‘‘میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہماری امریکہ کے سفیروں سے ملاقات ہوئی کسی نے کبھی نہیں کہا کہ سی پیک کو رول بیک کریں اس لیے کہ جیو پالیٹکس میں سی پیک اتنا بڑا کردار ادا نہیں کرتا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمارے چین سے تعلقات امریکہ کا پانسہ پلٹ دیں گے کیوں کہ ہم بہت چھوٹے کھلاڑی ہیں ہم چاہتے ہیں امریکہ اور چین سے اچھے تعلقات برقرار رکھیں،چینی ناراض نہیں ہیں لیکن حالیہ واقعات مین ان کو تشویش ضرور ہوئی ہے جو ایک فطری عمل ہے، اگر آپ نے معاشی ایجنڈے کو کامیاب کرنا ہے تو ضروری ہے سیاسی استحکام ہو اس لیے ہم مذاکرات میں سنجیدہ ہیں لیکن کیا حکومت عمران خان کو چھوڑ سکتی ہے ایسا نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہ کسی ڈپٹی کمشنر کے آرڈر کے تحت نظر بند نہیں ہیں ان کی گرفتاریاں کیسز میں ہیں اور اس کا راستہ عدالت ہی ہے۔آج فوج کے خلاف ”را“ مہم نہیں چلا رہی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم مہم چلا رہی ہے کیا کوئی ملک اس کی اجازت دے گا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے مستقبل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا 2047 ایک حقیقت ہے اس وقت دو ملک آزادی کی خوشیاں منارہے ہوں گے اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پڑوسی کا بیانیہ کیا ہوگا اور ہمیں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں اپنے بیانیہ سے متعلق سوچنے کی ضرورت ہے۔ اُڑان کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان ماضی میں تین اُڑانوں میں کریش کرچکا ہے سب سے پہلے ہم نے اُڑان بھری 1960 میں جب کہا جاتا تھا کہ جاپان کے بعد اگلا جاپان ایشیا میں پاکستان ہوگا۔ 65 کی جنگ نے ڈی ٹریک کردیا۔ دوسری اُڑان ہم نے بھری جب 90-91 میں نوازشریف نے اقتصادی اصلاحات متعارف کرائیں اور انہیں اصلاحات کو بھارت نے بھی بورو کیا من موہن اس وقت وزیر خزانہ تھے کامن ویلتھ سمٹ پر انہوں نے کہا کہ جو آپ نے کیا ہمیں بھی بتائیں ہمارے کاروباری لوگ کہہ رہے ہیں جو پاکستان کر رہا ہے وہ یہاں بھی ہونا چاہیے پھر دو سال بعد ہماری حکومت برطرف کر دی گئی۔ بھارت نے انہیں اصلاحات پر عمل کیا اور ہم سے آگے نکل گیا ۔ تیسری اڑان ہم نے 2013 میں پھر بھری اس میں سی پیک آیا دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے لیکن 2018 کی تبدیلی نے سب بدل کر رکھ دیا متبادل پالیسز دیئے بغیر پالیسز کو ریورس کر دیا گیا پھر جو ہم نے دو سال محنت کی ہے جس میں مشکل فیصلے بھی لیے گئے ابھی پھر سے اشاریہ تبدیل ہو رہے ہیں دنیا اچھی نگاہ سے دیکھ رہی ہے مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے۔ میرے نزدیک یہ چوتھی اُڑان ہے اور ہم چاہتے ہیں اس کو کریش ہونے کے علاوہ دوررس بھی بنایا جائے۔ امن ، سیاسی استحکام ، پالیسیز کا کم سے کم دس سال کادورانیہ اور مسلسل اصلاحات ان چاروں عناصر سے ترقی آتی ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ فائیو E ہم نے مرتب کیے ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی ماہرین کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ ایک ایسا فریم ورک بتائیں کہ جو پاکستان کے بڑے چیلنجز ہیں۔پہلا ای ایکسپورٹ، دوسرا ای ہے ای پاکستان وہ ملک جس میں ڈیجیٹل انقلاب نہیں آئے گا وہ پیچھ رہ جائے گا۔تیسرا ’ای‘ موسم سے متعلق ہے۔ چوتھا ’ای‘ ہے اینرجی اور انفراسٹرکچر ہے۔اور آخری ’ای‘ ہے کہ ترقی صرف سڑک بنا لینے یا اونچی عمارتیں بنانے کا نام نہیں ہے اصل ترقی ہوتی ہے انسانی وسائل کی ترقی سے ہمارے ملک میں جتنے سوشل انڈیکٹرز ہیں وہ دنیا میں نہایت تھرڈ کلاس ہیں دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس نے ترقی کی ہو اور نوے فیصد اس کی شرح خواندگی نہ ہوہماری ساٹھ فیصد ہے۔ اگر آپ کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا تو غیر ضروری چیزوں پر بھی پیسہ جاتا ہے اس اُڑان پاکستان کے تحت ہمارا پانچ سالہ منصوبہ بہت واضح طور پر ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے اپنے کم وسائل کو کہاں خرچ کرنا ہے۔ ہمارے پیش نظر یہ بھی ہے کہ ہم سرمایہ کاری کے لیے ماحول دے سکیں تاکہ پرائیویٹ سیکٹر زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ڈال سکیں ۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2013 میں جب ہم حکومت میں آئے تو وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ 340 ارب تھا جب ہم نے اٹھارہ میں حکومت چھوڑی تو ایک ہزار ارب تھا اور یہ کل اخراجات کا بارہ فیصد تھا۔ اپریل بائیس میں جب دوبارہ میں اس وزارت میں آیا تو کل اخراجات کا چار فیصد تھا اور قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ بن چکا تھا۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستانی اتنے ہی دیانتدار ہیں جتنے کہ کوئی اور قوم ہے اور ہمارے اندر اتنی ہی بے ایمانی ہے جتنی کہ کسی اور میں ہوسکتی ہے ۔ ڈیولپنگ ممالک کے مسائل ہوتے ہیں اس میں بے ضابطگیاں بھی ہوتی ہیں کوئی اور ڈیولپنگ ملک جیسا ہے ہم ویسے ہی ہیں لیکن دنیا میں چور ڈاکو کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔سی پیک کو بھی چور ڈاکو کے بیانیہ کا نشانہ بنایا گیا وہ چینی سرمایہ کار جو یہاں پچیس تیس ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کے لیے آئے تھے وہ دوسری جگہوں پر چلے گئے کہ یہاں پیسہ بی لگاؤ اور چور ڈاکو بھی سنو تو ہم نے بڑی محنت کے ساتھ دوبارہ اعتماد کو بحال کیا ہے۔فیز ٹو میں جی ٹو جی پر کم توجہ ہے ہماری توجہ زیادہ بزنس ٹو بزنس ہے ۔چینی ناراض نہیں ہیں لیکن حالیہ واقعات مین ان کو تشویش ضرور ہوئی ہے جو ایک فطری عمل ہے۔ امریکہ اور چین کی معیشت آپس میں جڑی ہوئی ہے اگر کوئی بریک ڈاؤن ہوگا تو جہاں پوری دنیا کی سپلائی چین کو ہوگا وہیں امریکہ کے لوگوں کو بھی ہوگالیکن ہماری امریکہ کے سفیروں سے ملاقات ہوئی انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ سی پیک کو رول بیک کریں اس لیے کہ جیو پالیٹکس میں سی پیک اتنا بڑا کردار ادا نہیں کرتا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمارے چین سے تعلقات امریکہ کا پانسہ پلٹ دیں گے کیوں کہ ہم بہت چھوٹے کھلاڑی ہیں ہم چاہتے ہیں امریکہ اور چین سے اچھے تعلقات برقرار رکھیں۔
اسلام آباد پاکستان کے بڑے پیمانے کے صنعتی شعبے کی پیداوار مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل عرصے میں گزشتہ...
کراچی امن معاہدے پر امریکی سیاست میں گہری نظریاتی تقسیم، عالمی برادری کا محتاط خیرمقدم، معاہدہ کشیدگی کم...
پشاور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں 1 کروڑ 82 لاکھ 15 ہزار روپے سے زائد کے مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ فراڈ...
کراچی برطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان کردیا۔ کیئر اسٹارمر کا بڑا فیصلہ، ٹک ٹاک،...
اسلام آ باد رواں مالی سال کےپہلے دس ماہ جولائی دو ہزار پچیس سے لیکر اپریل دو ہزار چھبیس کے دوران سرکاری بجلی...
اسلام آباد قومی احتساب بیورو بلوچستان نے ریاستی عملداری کی بحالی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ایک...
اسلام آبادوزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہا ہے کہ امریکا ایران امن معاہدہ پاکستان کیلئے اہم اور تاریخی سفارتی...
اسلام آباد کراچی پورٹ نے تقریباً آٹھ سال بعد پہلی مرتبہ 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگِ میل عبور کر لیا ،وفاقی...