بھارت، 18 سال سے کم عمر بچوں کاسوشل میڈیا اکاؤنٹ،والدین کی رضامندی لازمی

05 جنوری ، 2025

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت کی مرکزی حکومت کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے مسودہ قوانین کے تحت اب 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی رضامندی لازمی ہوگی۔الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے عوام کو مائی گووڈاٹ ان پلیٹ فارم پر ان قوانین پر اعتراضات اور تجاویز دینے کی دعوت دی ہے۔بھارتی حکومت رواں برس 18 فروری کے بعد موصول ہونے والی آراء پر غور کرے گی۔قوانین کے مسودے میں قانونی سرپرستی کے تحت بچوں اور معذور افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق، ڈیٹا فیڈوشیریز (ادارے جو ذاتی ڈیٹا کو سنبھالنے کے ذمہ دارہیں) کو نابالغوں کے ڈیٹا پر عمل (منیجمنٹ) کرنے سے پہلے بچوں کے والدین کی رضامندی حاصل کرنی ہوگی۔بچوں کے ڈیٹا پر خصوصی توجہ دینے کے علاوہ، مسودہ قوانین صارفین کے حقوق کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ صارفین کو اپنا ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے اور کمپنیوں سے اس بارے میں شفافیت کا مطالبہ کرنے کا حق ہوگا کہ ان کا ڈیٹا کیوں اور کیسے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ڈیٹا کی خلاف ورزی کی صورت میں 250 کروڑ روپے تک کے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے، اس سے ڈیٹا فیڈیوسریز کی جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ صارفین کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کو چیلنج کرنے اور ڈیٹا کے استعمال پر وضاحت طلب کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ قائم کرے گی، جو ایک مکمل ڈیجیٹل ریگولیٹری باڈی کے طور پر کام کرے گا۔ یہ بورڈ دور دراز سے سماعت کرے گا، خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا، جرمانے عائد کرے گا اور رضامندی کے منتظمین کو رجسٹر کرے گا۔ رضامندی کے مینیجرز کو بورڈ کے ساتھ رجسٹر کرنا ضروری ہے۔