بائیڈن کا اسرائیل کو22کھرب کے ہتھیار فروخت کرنیکا منصوبہ

05 جنوری ، 2025

کراچی (نیوز ڈیسک) بائیڈن کا اسرائیل کو 8 ارب ڈالر(22کھرب 24ارب پاکستانی روپے )کے ہتھیار فروخت کرنیکا منصوبہ، دفتر چھوڑنے سے قبل امریکی صدر نے قریبی اتحادی کیلئے حمایت کا فوری مظاہرہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جو بائیڈن کی انتظامیہ نے عارضی طور پر اسرائیل کے لیے 8 ارب ڈالر کے نئے ہتھیاروں کی منظوری دے دی ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی بربریت کو ایک سال گزر چکا ہے اور بائیڈن دفتر چھوڑنے والے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ دو افرا کے مطابق محکمہ خارجہ نے جمعہ کو دیر گئے کانگریس کو اس فروخت کا انکشاف کیا جسے ایک غیر رسمی اطلاع کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس طرح کا نوٹیفکیشن کسی ڈیل کے عوامی اعلان سے پہلے آتا ہے، جس پر عمل کرنے سے پہلے سینیٹ اور ہاؤس کی خارجہ تعلقات کی کمیٹیوں کی منظوری درکار ہوگی۔ Axios نے سب سے پہلے منصوبہ بند فروخت کی اطلاع دی، جس میں ڈرون کے خلاف لڑاکا طیاروں کا دفاع کرنے کے لیے امرام فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل، 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولے اور حملہ آور ہیلی کاپٹروں کے لیے ہیل فائر میزائل شامل ہیں۔ اس معاملے سے واقف ایک شخص نے کہا کہ اس میں ہزاروں درست گائیڈڈ گولہ بارود اور چھوٹے قطر کے بم بھی شامل ہوں گے۔ دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ کچھ ہتھیار براہ راست امریکی اسٹاک سے آئیں گے لیکن بہت سے ہتھیاروں کی فراہمی میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگے گا۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جارحیت میں 45 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔