محمد مسروف 16سال بھارتی جیل میں گزارنے کے بعد پاکستان لوٹنے کیلئے تیار

05 جنوری ، 2025

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستانی شہری محمد مسروف عرف منصور احمد کو گزشتہ 16 سال سے بھارتی جیل میں قید کاٹنے کے بعد بالآخر رہائی کا حکم مل گیا، 50 سالہ مسروف کو 7 فروری کو گورکھپور ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کیا جائے گا۔محمد مسروف کو 2008 میں بہرائچ کے نیپال بارڈر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر غیر قانونی طور پربھارت میں داخل ہونے کا الزام تھا۔ابتداء میں اس پر جاسوسی کا الزام بھی عائدکیا گیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے اسے مسترد کرتے ہوئے صرف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا تھا۔تاہم،محمد مسروف کی رہائی کا حکم ایک سال پہلے بھی دیا گیا تھا لیکن تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اب وزارت داخلہ کی جانب سے احکامات ملنے کے بعد اسے بہرائچ سے دہلی اور پھر اٹاری بارڈر کے ذریعے پاکستان بھیجنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔گورکھپور ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اے کے کشواہا کے مطابق ،وزارت خارجہ کی جانب سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا ہے اور مسروف کی رہائی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ مسروف نے اپنی سزا کے دوران اچھا برتاؤ کیا ہے اور اب وہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے پرجوش ہیں۔ مسروف کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گھر واپسی پر ان کا استقبال کرنے کیلئے تیار ہیں۔یاد رہے کہ محمد مسروف نے 16 سال بھارتی جیل میں گزارے۔ سزا کے دوران انہیں بہرائچ سے بنارس جیل منتقل کردیا گیاتھا۔ وہ گزشتہ 10 سال سے گورکھپور جیل میں قید ہیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے احکامات ملنے کے بعد انہیں 7 فروری کو رہا کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔