ٹیکسوں کی بھرمار،خام مال کی امپورٹ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ،جنگ فورم

11 جنوری ، 2025

ملتان (فورم رپورٹ؍شازیہ ناہید)ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔فارما سوٹیکلز کمپنیاں اپنی پرموشن کے اخراجات بھی ادویات کہ قیمتوں میں شمار کرکے وصول کرتی ہیں۔ بزنس مین  مافیا من مانی قیمتیں وصول کررہاہے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بھی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام ہے۔ حکومت فارماسیوٹیکل کمپنیوں پر دباؤ ڈالے تو 50 فیصد قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔خام مال کی تیاری اپنے ملک میں شروع کی جائے تو قیمتیں کم ہوں گی ابھی بیسک سیمی فارمولیشن پر کام شروع ہو چکا ہے۔ادویات پر ٹیکس بالکل نہیں ہونا چاہئے۔اب خیالات کا اظہار ’’ ادویات کی بڑھتی قیمتیں۔۔۔عوام کہاں جائیں؟ کے موضوع پر ماہرین نے جنگ فورم میں کیا۔ماہر آرتھو پیڈک ڈاکٹر راشد فاروق نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ؤ عام استعمال کے میڈیکل آئٹمز پر ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ادویات پر ٹیکس بالکل نہیں ہونا چاہئے اس کے علاوہ خام مال کی امپورٹ سے بھی قیمتیں زیادہ ہیں ،کووڈ کے بعد سے قیمتیں اور زیادہ ہو چکی ہیں۔فارما سوٹیکلز کمپنیاں اپنی پرموشن کے اخراجات بھی ادویات کہ قیمتوں میں شمار کرکے وصول کرتی ہیں۔سیمینارز کا انعقاد ڈاکٹروں کے لئے پیکجز بھی اسی میں شامل ہیں۔ان اخراجات کو کم کیا جائے تو ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 30 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔حکومت فارماسیوٹیکل کمپنیوں پر دباؤ ڈالے تو 50 فیصد قیمتیں کم ہو سکتی ہیں ۔ڈاکٹر اچھے معیار کی ادویات لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر سید نثار حسین شاہ نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز میں تمام طبی سامان اور آلات شامل ہیں جن پر 70 فیصد ٹیکس عائد کرنےسے کسی کے لئے تھرما میٹر خریدنا بھی مشکل ہوگا۔ بزنس مافیا من مانی قیمتیں وصول کررہے ہیں۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بھی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام ہے۔ سرجیکل ہسپتال اور کلینکس اور ڈاکٹرز بھی اس معاملے کا حصہ ہیں ۔ہمیں ہر سطح پر اپنی اصلاح کرنے اور انسانی صحت و جان کی قدر کرنے کی ضرورت ہے۔زکام، بخار کی دوا بھی غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے ، اگر کمپنیاں ڈاکٹروں کو نمونے کی ادویات دینا ،بنانا اور فروخت کرنا بند کردیں تو ادویات کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ڈپٹی سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکرٹری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب عالمگیر راؤ نے کہا کہ جی ایس ٹی 17 فیصد تو پہلے سے لگا ہوا ہے جس سے طبی آلات اور ادویات کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔کچھ ادویات ایسی ہیں جن کی قیمتیں مینو فیکچررخود طے کریں گے۔پوری دنیا میں قیمتیں چھپی ہوئی نہیں ہوتیں بلکہ مینو فیکچررز اور ریٹیلر خود طے کرتے ہیں۔قیمتیں عموماً ان ادویات کی زیادہ ہوتی ہیں جن پر مقابلہ نہیں ہے۔بیسک فارمولیشن تو یہی ہے کہ خام مال یہاں بنایا جائے، جب کہ سیمی بیسک یہ ہے کہ کچھ را میڑیل باہر سے منگوا کر اس کیپراسیسنگ یہاں کی جائے اس پر کچھ کام ہورہا ہے ۔سیکریٹری جنرل پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن ملتان راشد ایزدی نے کہا کہ ہماری تمام درآمدات پر ٹیکس اضافے نے ہر شے کے ساتھ ادویہ کی قیمتوں کو بھی بڑھا دیا ہے یہ بھی درست ہے کہ ڈاکٹر برانڈ لکھتے ہیں جب کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جنرک نام لکھا جائے اس سے مریض کو بھی فائدہ ہوگا اور قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے گا۔