پنجاب اسمبلی اجلاس میں PTI کا احتجاج، عمران کی رہائی کا مطالبہ

11 جنوری ، 2025

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب کے وزیر قانون صہیب بھرت نے اپوزیشن کو باقاعدہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے 9مئی اور26 نومبر پر جوڈیشل کمیٹی سے قبل اسمبلی کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا ۔پنجاب اسمبلی اجلاس میں PTI نے احتجاج کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے وزیر قانون پنجاب صہیب بھرتھ کو پی ٹی آئی ورکرز پر مقدمات تشدد اور شہادتوں کا چیلنج دیدیا، اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچرنے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے حالات مخدوش ہیں، اگر خدانخواستہ مذاکرات ناکام ہو گئے تو پھر بہت بڑی انارکی ہوگی۔پنجاب اسمبلی کے ایوان میں وزیر قانون پنجاب صہیب بھرتھ نے تین بل بھی پیش کیے۔جنہیں ڈپٹی سپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹیز کے سپرد کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ ایوان میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔پنجاب اسمبلی کے ایوان میں دس آڈٹ رپورٹس پیش کی گئیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے 40منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں اپوزیشن نے نعرے بازی شروع کردی،لیکن ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کو نعرے بازی سے روک دیا،اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق بینرز تھام کر نعرے بازی کی۔اس موقع پر اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ چیئر مین تحریک استحقاق سمیع اللہ خان نے کہا کہ نو مئی کے متعلق تحریک استحقاق نہیں آئی ، حکومتی رکن احسن رضا خان نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی لائیو سٹریمنگ کی مخالف کی،ایجنڈا مکمل ہونے پر اسمبلی کا اجلاس پیر 13جنوری دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔