مذاکرات، رکاوٹ تیسرا فریق ہے تو کہا جائے مداخلت ختم کرے،تجزیہ کار

11 جنوری ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان علینہ فاروق کے سوال کیا تحریک انصاف کا حکومت پر مذاکرات سے متعلق بے اختیار ہونے کا الزام درست ہے ؟کا جواب دیتے ہوئےسینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاکہ حکومت بے اختیار ہو یا بااختیار بات چیت حکومت او راپوزیشن کے درمیان ہی ہونا چاہئے اب اگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رکاوٹ تیسرا فریق ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ تیسرے فریق سے مذاکرات کی بجائے اس سے کہا جائے کہ وہ اپنی مداخلت ختم کرے،سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نےکہاکہ عمران خان سے تو چپ رہنے کی امید کی جارہی ہے لیکن خواجہ آصف ۔شہباز شریف ۔مریم نواز ۔عطا تارڑ کے حوالے سے کیا کہیں گے ان کو بھی چپ رہنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے ۔ مذاکرات کے چکر میں تو یہ حکومت کافی شرمندگی اٹھارہی ہے ، صحافی اور تجزیہ کار عمر چیمہ نےکہاکہ بالکل مذاکرات ہورہے ہیں کس کی ایما پر ہورہے ہیں یہ الگ بحث ہے،بہتر تو یہ تھا کہ مذاکرات کے دوران عمران خان خاموشی اختیار کرتے اب اگر عمران خان نے یہی ساری چیزیں کرنی ہیں تو پھر بہتر ہوگا کہ مذاکرات نہ کریں ،صحافی اور تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا کہ مذاکرات میں تین چیزیں اہم ہیں کہ جب مذاکرات ہوتے ہیں تو سازگار فضا رکھی جاتی ہے کوئی منفی بیانات نہیں دیئے جاتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب ابھی تک 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ کو قرار دے رہے ہیں اور جب ایسی صورتحال ہو تو پھر معاملات کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں خان صاحب سمجھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دباؤ میں ہیں اس میں دو باتیں اور بھی ہیں جن کو ہم نظر انداز کردیتے ہیں بعض اوقات ایسا بھی تاثر بن جاتا ہے کہ ہم پروگرام عمران خان کے خلاف کررہے ہیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔