اسلام آباد ( طاہر خلیل ، ایوب ناصر، عاصم جاوید، مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہوگیا۔پی ٹی آئی نے 2 انکوائری کمیشن بنانے کیلئےتحریری مطالبات پیش کیے،وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کا جواب دینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ، عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت 7 دن میں پی ٹی آئی کے مطالبات پر تحریری جواب دیگی ، سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اگلی میٹنگ جلد ہوگی ،حکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے کہا کہ مطالبات جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں، جاں بحق ورکرز کی فہرست نہیں دی، جو معاملات عدالت میں ہیں ان پر کمیشن نہیں بن سکتا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین نے کہا ہے کہ پھر مذاکرات ختم کردیں۔ جمعرات کو سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مذاکرات کا تیسرا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے 6 اور حکومتی مذاکراتی کے 10ارکان نے شرکت کی،اپوزیشن کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، راجہ ناصرعباس، علی امین گنڈاپور، صاحبزادہ حامد رضا، بیرسٹر علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ نے جبکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں راناءثناءاللہ ،راجہ پرویز اشرف،نوید قمر،عرفان صدیقی،فاروق ستار،خالد مقبول صدیقی،عبدالعلیم خان ،سالک حسین ،خالد مگسی اوراعجازالحق شریک ہوئے۔پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات سپیکر کو پیش کئے، پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات میں حکومت سے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ حکومت دو الگ الگ کمیشن بنائے،دونوں کمیشن چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 حاضر سروس ججز پر مشتمل ہونگے،حکومت 7 روز کے اندر کمیشن قائم کرے، دونوں کمیشن کی کارروائی عام لوگوں اور میڈیا کیلئے اوپن رکھی جائے، کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیوز کی بھی تحقیقات کی جائیں، مطالبات میں یہ سوال بھی کیاگیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے حالات کی قانونی حیثیت کیا ہے۔کمیشن عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات، خاص طور پر ان حالات کی تحقیقات جن میں افراد کے گروپس حساس مقامات تک پہنچے ،کمیشن 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں انکوائری کرے،گرفتار کئے گئے افراد کو کس طریقے سے حراست میں لیا گیا اور انہیں کس حالت میں رکھا گیا؟،کمیشن حساس مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا جائزہ لے، کمیشن اگر سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں تو اس کی عدم دستیابی کی وجوہات کا تعین کرے، کمیشن تحقیقات کرے کہ9 مئی 2023 کے حوالے سے کسی ایک فرد کیخلاف متعدد ایف آئی آرز درج کی گئیں اور قانون کے عمل کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلسل گرفتاریاں کی گئیں؟۔کمیشن اس بات کا جائزہ لے کہ ان کی رہائی کے حالات کیا تھے؟ کیا ان افراد کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، بشمول تشدد؟ گرفتار ہونے والے افراد کی فہرستیں کیسے تیار کی گئیں؟،کمیشن حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کے نفاذ کی قانونی حیثیت اور اس کے اثرات کا جائزہ لے ،انٹرنیٹ بنڈش سے پہلے، دوران اور بعد کے حالات میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے،کمیشن میڈیا کی سنسرشپ اور اس واقعے سے متعلق رپورٹنگ پر پابندیوں اور صحافیوں نے کو ہراساں کرنے کے واقعات کا بھی جائزہ لے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، تحریری مطالبات پرعمر ایوب خان ، امین گنڈا پور ، علامہ ناصر عباس ، اسد قیصر ، سلمان اکرم راجہ اور صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط ہیں۔ مذاکرات کے بعد سپیکر سردار ایاز صادق اور سینیٹر عرفان صدیقی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ عرفان صدیقی نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا ، انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ’آزادانہ ملاقات‘ کا موقع دیا جائے، اس مطالبے کی حکومتی ارکان نے بھی تائید کی، آئندہ اجلاس کی تاریخ کا اعلان سپیکر دونوں فریقین سے بات چیت کے بعد کرینگے، امید ہے اب صورتحال بہتر ہوجائیگی۔انہوں نے کہا کہ طے پایا کہ حکومت 7 دن میں پی ٹی آئی کے مطالبات پر تحریری جواب دے گی۔ ایاز صادق نے کہا کہ حزب اختلاف نے بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات کاا اہتمام کرنے کی درخواست کی، جس پر حکومت نے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ جلد ملاقات ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پیشرفت کو سراہا گیا، ملک میں دہشتگردی اور معیشت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا، میں نے تجویز پیش کی کہ ایک اور کمیٹی بنائی جائے جو ملک میں دہشتگردی اور معیشت کے حوالے سے بات چیت کرکے معاملے پر غور کرے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے واضح کیا کہ ان کے مطالبات میں اسیران کی رہائی شامل ہےبتایا کہ اسیران کو کسی ڈیل یا ڈھیل کے تحت نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحت رہا کیا جائے۔مذاکراتی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں شرکت سے قبل حکومتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مذاکرات راستہ نکالنے کیلئے ہوتے ہیں اسی لیے کوشاں ہیں، اپوزیشن کو 31 جنوری سے پہلے جواب دے دینگے، مذاکرات میں بھی کوئی معجزہ ہوسکتا ہے۔ادھرحکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے عرفان صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کا جواب دینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں قانونی ماہرین، پی پی پی سمیت تمام اتحادی، بھی شامل ہیں، حکومتی کمیٹی 27 جنوری تک مطالبات پر جو جواب دے گی وہ حتمی ہوگا۔ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پی ٹی آئی کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بیرسٹر گوہر نے سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ، رانا ثنااللہ نے کہا کہ اپوزیشن نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جسے حکومت کیخلاف چارج شیٹ کہا جا سکتا ہے، اپوزیشن کے 2 بنیادی مطالبات ہیں جن کا وہ پچھلے دس گیارہ ماہ سے ذکر کرتے آرہے ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے جس پر ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے، آج اس سے وہ دستبردار ہوگئے اور آج کی ملاقات میں انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں کیا، اپوزیشن کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے جس پر ہم نے انہیں کہا تھا کہ آپ ہمیں ایف آئی آر کے نمبرز فراہم کریں کہ کن سیاسی ورکز کیخلاف ایسے مقدمات بنائے گئے لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے مطالبات پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ان مطالبات کا تو کوئی جواب نہیں بنتا، پی ٹی آئی نے مطالبات کے ساتھ کسی قسم کی تفصیلات اور ڈیٹا فراہم نہیں کیا لہذا اس پر 2017 کے ایکٹ کے تحت جوڈیشل کمیشن کا قیام کا جواز نہیں بنتا، انہوں نے پوری دنیا میں ہمارے اداروں اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کیا لیکن آج بھی ان کے پاس کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی میں7 جماعتوں کی نمائندگی ہے، کمیٹی کمیشن کے مطالبے سمیت تمام امور کا جائزہ لےگی۔ اپوزیشن نے تحریری مطالبات دینے میں 42 دن لگائے،اپوزیشن کے مطالبے پر بانی پی ٹی آئی سے جلد کھلے ماحول ملاقات ہوجائےگی۔دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ دونوں کمیشنز کا قیام مذاکرات کیلئے حکومت کے سنجیدہ ارادے کی نشاندہی کرے گا ، اگر کمیشن قائم نہ کئے گئے تو مذاکرات جاری نہیں رکھیں گے۔
اسلام آ باد بنگلہ ہ دیش کے قائم مقام صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر حافظ الدین احمد کی خصوصی دعوت پر سابق سیکرٹری...
اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیر 11 مئی سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے کیلئے 8 بینچ تشکیل دے دیئے گئے ہیں جو پیر 11...
کراچی متحدہ عرب امارات میں آج سے اسکولوں میں دوبارہ روایتی کلاسز بحال، وزارتِ تعلیم نے تمام سرکاری و نجی...
کراچی اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمی ختم کیے بغیر جنگ ختم نہیں ہوسکتی،...
کراچی ویز اسٹریٹنگ نے خود کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے پیش کر دیا، اسٹارمر کی مشکلات میں اضافہ، وزیر صحت نے ممکنہ...
اسلام آ باد قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن آلجاسم آلثانی نے اتوار کے...
کراچی امریکی اخبار کا کہنا ہے اسرائیل نے عراق میں خفیہ فوجی اڈے سے ایران کیخلاف جنگی کارروائیاں کیں۔ عراق کو...
اسلام آ باد، بنوں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے رابطہ کرکے...