مذاکرات میں پی ٹی آئی کے پیش کردہ مطالبات، کامیابی کے امکان تاریک

17 جنوری ، 2025

اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) حکومت اور حزب اختلاف کے مذاکرات میں تحریک انصاف کے پیش کردہ مطالبات نے کامیابی کے امکان کو تاریک کردیاہے سرکاری ٹیم کے ترجمان نے حزب اختلاف کے پیش کردہ چارٹر کو سرسری جائزے کے بعد ناقابل عمل قرار دیدیا ہے اس طرح یہ مطالبات فریقین کے درمیان آئندہ رابطے میں کسی تردد کے بغیر مسترد کردیئے جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف حلیف جماعتوں کی مشاورت سے پرسوں اتوار تک آئین و قانون کے ماہرین کی کمیٹی قائم کردینگے جوان مطالبات کے تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ حد درجہ قابل اعتماد حکومتی ذرائع نے اس امر کی نشاندہی کی ہے سرکاری ٹیم نے بادی النظر میں حزب اختلاف کے مطالبات کومضحکہ خیز اور قانون سے نابلد ہونے کا مظہر قرار دیدیا ہے حکومت کا باضابطہ موقف آئندہ ہفتے حزب اختلاف کو سونپ دیا جائے گا جو تحریری جواب کی شکل میں ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف نے چارٹر کی شکل میں این آر او پلس کے لئے درخواست دیدی ہے جس کے آخری پیرے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے استدعا کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنمائوں کے خلاف مقدمات میں حکومت ان کی پیروی میں استغاثہ کا موقف ہٹالے تاکہ ان کی رہائی اور بریت کی راہ ہموار ہوجائے۔ ذرائع نے یاد دلایا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے حریفوں کو جو رعایات دی تھیں اور جو این آر او کہلاتی تھیں سراسر اسی مفہوم سے عبارت تھیں ایسے میں اب این آر او کیا رہ جاتا ہے۔ استغاثہ کو مقدمےکی پیروی میں ملزموں کو رعایت دینے کی ہدایت ہی وہ ایگزیکٹو آرڈر ہے جس کی خواہش گرفتار شدگان نے بار بار ظاہر کی ہے حزب اختلاف کا یہ موقف کہ وہ بانی تحریک انصاف کی رہائی کا مطالبہ نہیں کرے گی اور دوسرے ملزموں کو رہا کردیا جائے بے بنیاد ثابت ہوگیا ہے حزب اختلاف کا چارٹر عمران خان کی رہائی کی درخواست کے محور میں گھوم رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور کے سیکورٹی اجلاس کو تحریک انصاف اپنے کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے سیاسی رنگ دے رہی ہے اس غبارے سے اس وضاحت نے ہوا نکال دی ہے جو سلامتی کے اداروں نے اپنے ذرائع سے جمعرات کی سہ پہر جاری کی ہے۔ آئندہ ایک ہفتے تک بحیرہ اوقیانوس کے پار سے آنے کی پرفریب امید کے ذریعے تحریک انصاف کا بانی اپنے پیروکاروں کی ہمت بندھائے رکھنے کا سامنا کرےگا۔ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ عین مذاکرات کی نشست کے دن 8فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان ملک میں افراتفری پیدا کرکے استحکام کا ماحول برباد کرنے کی تازہ کوشش ہے تحریک انصاف نے فروری کے مہینے میں ملکی حالات میں ابتری لانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے انتظامیہ نے اس سلسلے میں حکمت عملی وضع کرلی ہے وہ اسے کسی طور پر کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ترسیلات زر روک دینے کا مطالبہ تحریک انصاف کو اب یاد نہیں رہا۔ اس نے آئین کی 26ویں ترمیم کو منہدم کرنے کا آموختہ بھی بھلادیاہے اور اپنا نام نہاد مینڈیٹ واپس لینے کی عرضی بھی پھاڑ دی ہےجس کے بعد اب ایک بودا سا چارٹر پیش کردیا ہے جسے کسی نیم خواندہ شخص نے سپرد قلم کیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کسی میدانی علاقے میں منتقل کرنے کی تجویز پر غور ہورہا ہے اس بارے میں فیصلہ ہفتہ رواں میں کردیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے ذرائع نے جنگ / دی نیوز کے استفسار پر کہاہے کہ وہ اپنے مطالبات میں پیش کردہ موقف پر قائم ہیں حکومت نے مذاکراتی عمل جاری رکھنا ہے تو اسے آئندہ ہفتے میں چارٹر منظور کرنے کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ بانی چیئرمین نے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کی تومذاکرات یکم فروری سے منقطع تصور ہونگے۔