خیبر پختونخوا میں 781 میگاواٹ کے 10 اہم پن بجلی منصوبے تاخیر کا شکار

17 جنوری ، 2025

پشاور( ارشدعزیز ملک) خیبر پختونخومیں 781 میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت والے 10 اہم پن بجلی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں ۔ تین منصوبے اپنی تکمیل کی ڈیڈ لائن گزار چکے ہیں جبکہ صوبے میں دیگر سات منصوبے بھی مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو سکیں گے، جس کے باعث منصوبوں پر لاگت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔سیکرٹری توانائی وبرقیات زبیر خان نےتین منصوبوں کے لئے مارچ کی ڈیڈ لائن ، پیڈو کو ناکام ٹھیکہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO)، جو ان منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے، کو وقت پر منصوبے مکمل نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ حال ہی میں سیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیر خان کی صدارت میں ہونے والے ایک جائزہ اجلاس میں مسلسل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ سیکرٹری توانائی نے پیڈو اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ رکاوٹوں کو دور کریں اور تمام زیر التوا منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تاخیر صوبے کی توانائی کی ضروریات کے لیے ناقابل قبول ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ لوئر دیر، تیمرگرہ میں 40اعشاریہ8میگاواٹ صلاحیت کے کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تکمیل اکتوبر 2024 میں ہونا تھی۔ تاہم 98 فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود14ارب روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اسی طرح، مانسہرہ میں واقع جبوڑی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ، جسے دسمبر 2024 تک مکمل ہونا تھا، اس کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔4ارب 18کروڑ 82لاکھ روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ 10میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن اسے ابھی فعال نہیں کیا جا سکا۔ شانگلہ میں واقع کروڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی تاخیر کا شکار ہے، جس کا 96 فیصد کام دسمبر 2024 تک مکمل ہو چکا ہے۔ 6ارب 99کروڑ 27لاکھ روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ11.8 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان منصوبوں کے علاوہ، سات جاری دیگر منصوبے بشمول 300میگاواٹ بالاکوٹ پاورپراجیکٹ، 84میگاواٹ گورکن مٹلتان پاور پراجیکٹ، 6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ، 13.5میگاواٹ چپری چارخیل ، 69 میگاواٹ لاوی پاورپراجیکٹ، 88 میگاواٹ گبرال کالام اور 157 میگاواٹ مدین ہائیڈروپاورپراجیکٹ بھی مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو سکیں گے وہ بھی تاخیرکاشکارہیں۔ یہ تاخیر پیڈو کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں خامیوں کو مزید واضح کرتی ہے۔ عوامی خدشات کے جواب میں سیکرٹری محکمہ توانائی وبرقیات زبیر خان نے کہا کہ تاخیر کا نوٹس لیا گیا ہے اور منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے جنگ کو بتایا کہ ان اہم توانائی منصوبوں کی تکمیل کو تیز کرنا ضروری ہے تاکہ بجلی کی قلت کم کی جا سکے اور صوبے کی معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ تین منصوبوں کے لئے مارچ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ پیڈو کو ان ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے جو منصوبے مکمل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔