فعال طرز زندگی اور مثبت نقطہ نظر کی وجہ سے لمبی عمر، 124سالہ چینی خاتون

17 جنوری ، 2025

کراچی (محمد ندیم ،اسٹاف رپورٹر)چین کے نانچنگ صوبے سے تعلق رکھنے والی 124؍ سالہ خاتون چاشی لمبی عمر کا سہرا ایک فعال طرز زندگی اور مثبت نقطہ نظر کو دیتی ہیں۔ ذاتی المیوں کو برداشت کرنے کے باوجود وہ نمایاں طور پر خود کفیل اور ذہنی طور پر تیز رہتی ہیں۔ وہ ایسی زندگی گزارتی ہیں جس میں باقاعدہ کھانا اور جسمانی سرگرمی شامل ہو۔ اوسط انسانی زندگی 70؍ سے 80؍ سال ہوتی ہے جبکہ زیادہ تر لوگ عشروں پر محیط عمر کے جسمانی اور ذہنی اثرات کو جھیلتے ہیں جب ہمارے جسم عمر رسیدہ ہوتے ہیں تو وہ بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور طاقت کو برقرار رکھنا ان کے لئے بڑھتی ہوئی جنگ کےبرابر ہوتا ہے۔ تاہم ایک چینی خاتون نے ان تمام خیالات کی نفی کی ہے۔ یکم جنوری کو نانچنگ، چین کے سی شان صوبے سے تعلق رکھنےوالی خاتون کیوئی چاشی نے اپنی 124؍ ویں سالگرہ منائی۔ چین کی تاریخ میں ایک صدی سے زائد عمر پانے والی کیوئی 1901ء میں پیدا ہوئیں۔ دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق چین میں سرکاری سطح پر ان کی عمر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم ان کی تاریخ پیدائش ہوکو سسٹم میں ریکارڈ ہے جو ملک کا سب سے بڑا رجسٹریشن سسٹم ہے۔ کیو ئی کا خاندان چھ نسلوں سے خطے میں اس کی طویل العمری کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے اس کے وسیع خاندان میں اس کی 60؍ سالہ پوتی اور اس کے آٹھ ماہ کا پڑپوتا ہے لیکن طویل اور صحت مند زندگی گزارنے اور فعال طرز زندگی برقرار رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس نے دی اسٹار کو بتایا کہ وہ غیر معمولی طور پر فعال ہے اور وہ ہر روز تین وقت کھانا کھاتی ہے، وہ خوراک کے بعد اسے ہضم کرنے کے لئے مختصر چہل قدمی کرتی ہے۔ کیوئی نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہر شام 8؍ بجے سوجاتی ہے۔ ایسی صحت مند زندگی گزارتے ہوئے 124؍ سال کی عمر میں کیوئی متنوع کام کرتی ہے جس میں اپنے بال سنوارنا، آگ جلانا اور ہنسوں کو کھانا کھلانا شامل ہیں۔ وہ باآسانی سیڑھیاں بھی چڑھ سکتی ہے۔ کیوئی نے خبر رساں ادارے کوآگاہ کیا کہ خاص چاول پورج جس میں کاسی پھل شامل ہوتا ہے سردیوں میں پیدا ہونےو الے خربوزے اورکچلی ہوئی مکئی سے تیار ہوتا ہے جبکہ اس خاص چاول کے لئے اس کی پسندیدگی کبھی ختم نہیں ہوئی، اب وہ اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر اسے اعتدال سے کھاتی ہے۔ کیوئی 100؍ سال سے زائد عمر کی ہے یعنی وہ چین کو جمہوریہ چین بنتے دیکھ چکی ہے۔ وقت کو یاد کرتے ہوئے جب چین میں پنگ ڈائنیسٹی کی حکومت تھی کیوئی نے کہا کہ اس کی زندگی مشکلات سے بھری ہوئی تھی اور بہت سے لوگ فاقے سے مر گئے تھے اور ایسا پہاڑوں میں جنگلی سبزیاں تلاش کرتے ہوئے ہوا۔ شادی سے قبل کیوئی اپنے گائوں میں اپنی اکائونٹنگ کی صلاحیتوں اور جسمانی طاقت کے لئے مشہور تھی وہ کھیتوں کے چیلنجنگ کام جیسے ہل چلانا اور پتھر توڑنے کا کام بھی کرتی تھی۔ چیلنجز کے باوجود کیوئی نے اولوالعزمی برقرار رکھی جس کا اظہار اس کی طویل زندگی سے ہوتا ہے ۔وہ اپنی کمیونٹی میں ایک معزز شخصیت بن گئی جس کی وجہ اس کی مستقل مزاجی اور مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت تھی۔ تاہم اس کو 40؍ سال کی عمر میں اس وقت بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑا جب اس کا شوہر چار بچوں کو چھوڑ کر مر گیا۔ کیوئی نے ہمت نہیں ہاری، برداشت کیا اور محنت سے اپنے بچوں کی پرورش کی جیسا کہ اس نے صحت مند طرز زندگی بسر کرنا جاری رکھا، اس کا سب سے بڑا بیٹا مر گیا۔ کیوئی کی بہو کی دوبارہ شادی کے بعد اس کی پوتی پیدا ہوئی جسے کیوئی نے اپنی اولاد کی طرح پالا۔ سالوں بعد پوتی کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے شوہر سے محروم ہوگئی ۔اب کیوئی نانچنگ میں اپنی پوتی کے ساتھ رہتی ہے جبکہ 100؍ سال کی عمر کو پہنچنے پر اس کا جسم خراب ہوگیا لیکن اس کی فعالیت ابھی تک برقرار ہے۔