ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا جو دینے سے انکار کردیا گیا، آئینی بنچ

17 جنوری ، 2025

اسلام آباد(رپورٹ:رانا مسعودحسین) عدالت عظمی کے آئینی بنچ میں 9مئی2023کی دہشت گردی اورجلائو گھیرائو میں ملوث پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سویلین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کوخلاف آئین قراردینے سے متعلق مقدمہ کے فیصلے کیخلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران وزارت دفاع سے فوجی عدالتوں میں سویلین ملزمان کے ابتک کئے جانے والے ٹرائل کی تفصیلات مانگ لی ہیں،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ( انڈین جاسوس )کلبھوشن یادیو کے علاوہ ابتک کتنے سویلین کا ٹرائل ہوا ؟ ڈیٹا کے ساتھ جواب دیں ، کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی سینئر جج ، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی تو اپیل گزار ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث احمدنے موقف اختیار کیا کہ اگر عدالت آرمی ایکٹ کی دفعہ 2(1) ڈی ون کو درست قرار دیتی ہے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ زیر غور آئینی درخواستیں نا قابل سماعت ہوجائینگی ،فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں بھی پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا؟عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہواتھا؟لیکن عدالت کو یہ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا گیا ،جس پرفاضل وکیل نے کہاکہ وہ عدالت کو ایک مقدمہ کا ریکارڈ جائزہ لینے کیلئے دکھا دینگے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ عدالت نے پروسیجر ہی دیکھنا ہے کہ کیا فوجی عدالت میں فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں یا نہیں ؟ ،عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے،کیونکہ فطری انصاف کے اصول کے تحت کسی بھی ملزم کا موقف سنے بغیر اسے سزا نہیں دی جا سکتی ،فاضل وکیل نے کہاکہ عدالت بنیادی حقوق کے نقطہ پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی۔جسٹس جمال مندو خیل نے کہاکہ سوال یہ ہے کیا سویلین کے ملٹری ٹرائل والے قانون میں ترمیم ہو سکتی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 2010 میں آیاہے ، ضابطہ فوجداری 1898 کا قانون ہے، ضابطہ فوجداری میں ٹرائل کا پورا طریقہ کار دیا گیا ،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ فئیر ٹرائل کے آرٹیکل 10 اے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟جسٹس مندو خیل نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کا بنانے کا مقصد کیا ہے؟کیا اسکا مقصد آرمڈ فورسز میں ڈسپلن قائم کرنا ہے یا کریمینل سرگرمیوں کو چیک کرنا؟تو فاضل وکیل نے کہاکہ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فورسز کی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ آرمی ایکٹ آرمڈز فورسز کے افسران اور جوانوں کو ڈیل کرتا ہے،1967 میں ترمیم کرکے 2 ون ڈی ون سیکشن شامل ہواتھا ،اس ترمیم سے قانون میں " کوئی بھی شخص " کے الفاظ شامل کر دیئے گئے ،ان الفاظ کی قانون میں شمولیت سے ریٹائرڈ افسران بھی ملٹری ٹرائل کے دائرے میں آگئے ،اب سویلین کو ملٹری ٹرائل میں شامل کر لیا گیا ،لگتا ہے کہ قانون میں شامل " کسی بھی شخص " کے الفاظ کا درست تعین نہیں ہوا ؟قانون میں شاید یہ سقم رہ گیا ہے؟