ووٹنگ اور توثیق کے لئے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں تاخیر

17 جنوری ، 2025

کراچی(مطلوب حسین/ اسٹاف رپورٹر ) قطر اور امریکہ کے رہنماؤں کی طرف سے اعلان کردہ غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر ووٹنگ اور توثیق کے لئے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں تاخیر کی۔دی گارجین کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے حماس پر "معاہدے کے کچھ حصوں سے منحرف ہونے" کا الزام لگاتے ہوئے کہاہےکہ معاہدے کے کچھ حصوں سے انحراف نے "آخری لمحات کا بحران" پیدا کیا تھا، اور کہا کہ جب تک "حماس معاہدے کے تمام عناصر کو قبول نہیں کرتی" کابینہ کا اجلاس نہیں ہوگا۔دوسری طرف غزہ میں جنگ بندی کی توقعات کے باوجود لڑائی جاری ہے، سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 80 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بدھ کی رات سے غزہ میں دہشت گردوں کے تقریباً 50 ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ شہری دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس کی ٹیموں نے شمالی شہر جبالیہ پر حملے کے بعد پانچ بچوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔جمعرات کو علاقے کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں مجموعی طور پر 46,788 سے زیادہ فلسطینیشہید اور 110,453 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 81 شہیداور 188 زخمی بھی شامل ہیں، ایکشن ایڈ نے بتایا کہاسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والوں میں فطین شکورہ صالحہ بھی شامل ہیں، جو نصیرات کے العودہ ہسپتال کے نرسنگ اسٹاف کے چیف ہیں۔حماس کے ایک سینئر عہدیدار عزت الرشیق نے نیتن یاہو کے اعلان کے بعد کہا کہ گروپ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکہ پراعتمادہے کہ معاہدے کی توثیق میں حائل رکاوٹیں حل ہو جائیں گے۔ امریکی نمائندوں کے بارے میں اب بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کی توثیق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان بدھ کو کیا گیا تھا لیکن جس پر باضابطہ طور پر اتفاق نہیں کیا گیا ہے، طے پانے والے معاہدے کے مطابق پہلے مرحلے میںحماس نے 33 یرغمالیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ اسرائیل رہائی پانے والی ہر خاتون اسرائیلی فوجی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوںاور 30 ​​دیگر یرغمالیوں کو رہا کرے گا۔ اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو آزادانہ طور پر غزہ کے ارد گرد گھومنے پھرنے کی اجازت ہوگی، زخمیوں کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جائے گا، اور علاقے کے لیے امداد یومیہ 600 ٹرک تک بڑھائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیل کا غزہ سے مکمل انخلاء شامل ہوگا۔ یورپی یونین نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کے لیے نئی امداد کے لیے120 ملین یورو فراہم کرے گا۔