اسلام آباد (محمد صالح ظافر)نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے پاکستان پر اثرات کے بارے میں گول میز کانفرنس یہاں ہوئی۔ ٹرمپ کے تحت پاکستان سے امریکا کے رابطے محدود رہیں گے جبکہ امریکا پاکستان کی آزاداسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے چین اور بھارت سے تعلقات کے تناظر میں اپنے روابط استوار کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور امریکا میں ہم آہنگی کا فقدان بھی تعلقات کےدیرپا شراکت داری میں رکاوٹ ہے۔ امریکا کو پاکستان سے منفرد اور آزادانہ تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو چین کےساتھ بھی برابری کی بنیاد پر قائم ہیں جس کے اپنے منفرد محرکات اور اسٹریٹجک ترجیحات ہیں۔ اس گول میز کانفرنس میں سابق وزیر خارجہ سید جلیل عباس جیلانی،سفیر اشرف جہانگیر قاضی، علی سرور نقوی اور خالدمسعود نے حصہ لیا۔
اسلام آ باد وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات بدھ کے...
راولپنڈی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ...
کراچی پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو حالیہ برسوں میں...
کراچی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک جامع جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے...
کراچی صدارت یا دولت ،ٹرمپ نے دوسری مدت میں4کھرب کمائے،کرپٹو، کارپوریٹس، تحائف،غیر ملکی سودے، میڈیا تصفیے...
انصار عباسیاسلام آباد ..... 2021ء سے 2024ء کے دوران سی ایس ایس امتحان کے ذریعے بھرتی ہونے والے افسران کی تعلیمی...
اسلام آبادعوام بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں کے دباؤ میں، خوراک خرچ میں کمی پر مجبور، بنیادی غذاؤں کی فی کس...
لاہورپاکستان میں امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان معاشی شراکت داری...