عمران خان سے اختلاف سہی لیکن انہیں رہا کریں، امریکی کانگریس

09 فروری ، 2025

کراچی (جنگ نیوز) امریکی رکن کانگریس جو ولسن نے موجودہ وزیراعظم شہبازشریف، صدرآصف زرداری اور سروسز چیفس کو مخاطب کرتےہوئے ایک خط حکومت پاکستان کو ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ پاکستان اور امریکا کےمابین مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں اورگزشتہ 75 سال کے دوران یہ اس وقت سب سے زیادہ مضبوط رہے ہیں جب پاکستان میں جمہوری اقدار کے مطابق قانون کی حکمرانی رہی ہے۔ خط میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں یہ خط سابق وزیراعظم عمران خان کی غیرمنصفانہ قید کے حوالے سے لکھ رہا ہوں۔ اپنے خط میں، ولسن نے اعتراف کیا کہ انہیں عمران خان کے کچھ مؤقف سے اختلاف ہے، خاص طور پر چین کی کمیونسٹ پارٹی اور جنگی مجرم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حوالے سے ان کے موقف پر مجھے ان سے اختلاف ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب سیاسی مخالفین کو ووٹ کے ڈبے پرشکست دینے کے بجائے انہیں بے بنیاد الزامات کے تحت قید کردیاجائے تو ایسے میں جمہوریت کام نہیں کر سکتی۔ میں پاکستان پرزور دیتا ہوں کہ وہ جمہوری اداروں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی ،منصفانہ عدالتی عمل کی بنیادی ضمانتوں، آزادی صحافت، آزادی اجتماع اور پاکستان کے لوگوں کی آزادی اظہارکو برقراررکھے۔ میں پاکستان پر زوردیتا ہوں کہ وہ عمران خان کو آزاد کرے ۔ اس طرح کا اقدام پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔