ٹرمپ کی امریکی میڈیا سے جنگ، کروڑوں ڈالر کے مقدموں اور ریگولیٹری خطرات

09 فروری ، 2025

واشنگٹن (اے ایف پی) کروڑوں ڈالر کے مقدموں اور ریگولیٹری خطرات سے لیس، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی میڈیا کے ساتھ اپنی دیرینہ جنگ کو ایک نئی سطح پر لے جا رہے ہیں۔ایک بے مثال اقدام میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ آٹھ میڈیا تنظیموں بشمول دی نیویارک ٹائمز، دی واشنگٹن پوسٹ، سی این این، این بی سی اور این پی آر کو پینٹاگون میں اپنے دفتر خالی کرنا ہوں گے۔ صدرٹرمپ کا طویل عرصے سے مرکزی دھارے کے خبر رساں اداروں کے ساتھ ایک مخاصمانہ تعلق رہا ہے اوروہ انہیں عوام کا دشمن قرار دیتے ہیں ۔ تاہم، ایک طاقتور قدامت پسند براڈکاسٹر فاکس نیوز کوقابل ذکر استثناء حاصل ہے، جس کے چند میزبانوں نے ان کی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کیے ہیں اور جہاں ان کی بہو لارا ٹرمپ پرائم ٹائم میزبان کے طور پر شروعات کرنے والی ہیں۔ایک اور قسم کے دباؤکے طریقہ کار کے تحت ٹرمپ کے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے نئے سربراہ برینڈن کار نے این پی آر اور پی بی ایس کی تحقیقات کا حکم دیا ہےاس اقدام کا مقصد عوامی نشریاتی اداروں کے لیے وفاقی فنڈنگ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں اے بی سی نیوز نے ٹرمپ کی جانب سےنیٹ ورک کےا سٹار اینکر جارج سٹیفانوپولوس پر ہتک عزت کے مقدمے کے تصفیےکے لیے 15 ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ۔ایف سی سی تحقیقات اور ٹرمپ کی جانب سے 10 ارب ڈالر کا مرکزبراڈکاسٹر سی بی ایس نیوز نے حال ہی میں ایف سی سی کی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیریس کے ساتھ گزشتہ سال انٹرویو کی خام فوٹیج حوالے کرنے کی درخواست کی تعمیل کی، صدر نے اس پر دھوکہ دہی سے ایڈیٹ کرنےکا الزام عائد کیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سی بی ایس کی پیرنٹ کمپنی پیراماؤنٹ ایسے وقت میں جب اسے اسکائی ڈانس کے ساتھ مجوزہ انضمام کے لیے ٹرمپ کی حمایت کی ضرورت ہے، مقدمے میں صدر سے تصفیہ کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ڈونلڈٹرمپ دوسری بار صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سرکاری ایجنسیوں کی خبروں کی سبسکرپشنز کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے میڈیا مخالف بیانات میں اضافہ کرتے نظر آرہے ہیں، جسے مبصرین مصنوعی غم و غصہ کہتے ہیں۔نیوز آؤٹ لیٹ پولیٹیکو سوشل میڈیا طوفان کا مرکز تھا، جس میں ایلون مسک سمیت ٹرمپ کے حامیوں نےاسکرین شاٹس پوسٹ کیے، جن میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ80 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) سے نیوز سائٹ کو فراہم کی گئی تھی۔سرکاری ادائیگیوں کے ایک آن لائن ٹریکر یو ایس اے سپینڈنگ ڈاٹ گورنمنٹ (USAspending.gov) پر موجودریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی ایجنسیوں نے پولیٹیکو کو اس کی پولیٹیکو پرو سروس سمیت سبسکرپشنز کے لیے تقریباً 80 لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔تاہم،ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی ادائیگیوں میں یو ایس ایڈ کا حصہ کافی کم تھا۔لیکن حقائق ڈونلڈ ٹرمپ کو جھوٹے دعوے کرنے سے باز نہیں رکھ سکے کہ یو ایس ایڈ اور اور دیگر ایجنسیوں سے غلط طریقے سے اربوں ڈالر جعلی خبروں والے ذرائع ابلاغ کو ڈیموکریٹس کے بارے میں اچھی کہانیاں تخلیق کرنے کیلئے بطورمعاوضہ فراہم کیےگئے تھے۔پولیٹیکو کے چیف ایگزیکٹیو، گولی شیخو لاسلامی اور اسکے چیف ایڈیٹر جان ہیرس نے ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید کی کہ انہیں کبھی بھی کوئی سرکاری فنڈنگ،کوئی سبسڈی، کوئی گرانٹ، کوئی ہینڈ آؤٹ نہیں ملا ۔ سبسکرائب کرنیوالی سرکاری ایجنسیاں بہتر کام کرنے اور زیادہ موثر ہونے کیلئے بالکل کسی دوسرے ٹول کی طرح خریدتے ہیں، یہ فنڈنگ نہیں ہے ، یہ ایک لین دین ہے۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ اپنی پولیٹیکو سبسکرپشنز منسوخ کر دیگا ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مزید سبسکرپشنز منسوخ کر دیتی ہے تو دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس کو بھی لاکھوں ڈالر کے نقصان کا خطرہ ہے، جو کہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک ایسی پریس کو کمزور کرنیکا آلہ ہے جو پہلے ہی مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔