ٹرمپ کی جانب سے انٹونی بلنکن اور جیک سلیوان کیلئے سکیورٹی کلیئرنس منسوخ

10 فروری ، 2025

کراچی(نیوزڈیسک) وائٹ ہاؤس کے حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن اور قومی سلامتی کے سابق مشیر جیک سلیوان کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔یہ اقدام ایک دن بعد سامنے آیا جب ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے پیشرو جو بائیڈن کے لیے سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی جس سے روزانہ کی انٹیلی جنس بریفنگ تک ان کی رسائی رک گئی۔حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ ٹرمپ نے بائیڈن کی ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو کے لیے بھی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی جنہوں نے چھے جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملوں کے حوالے سے محکمہ انصاف کا ردِعمل پر رابطہ کاری کرنے میں مدد کی۔حکان نے کہا کہ ٹرمپ نے نیویارک کے اٹارنی جنرل لیٹسیا جیمز اور مین ہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کی کلیئرنس بھی ہٹا دی۔ ان دونوں نے ٹرمپ کے خلاف مقدمات کی قیادت کی تھی۔اگرچہ شاید منسوخی کے فوری اثرات نہ ہوں لیکن یہ واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور تفریق کی ایک اور علامت ہے۔ سابق امریکی صدور روایتی طور پر انٹیلی جنس بریفنگ حاصل کرتے رہے ہیں تاکہ وہ موجودہ صدور کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر مشورہ دے سکیں۔بائیڈن نے 2021 میں ٹرمپ کے لیے سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی جو اس وقت سابق صدر تھے۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے گذشتہ ماہ ریٹائرڈ آرمی جنرل اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مارک ملی کے لیے ذاتی سکیورٹی اور سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی۔