پاکستان کی افغانستان کیلئےچینی کی برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ

11 فروری ، 2025

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) ایک طرف ملک میں چینی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی افغانستان کےلیےچینی کی برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا-رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ جولائی دو ہزاردو ہزارچوبیس سے لیکرجنوری دو ہزارپچیس کے دوران سالانہ بنیادوں پرافغانستان کے لیےچینی کی برآمدات چار ہزار تین سو بتیس فیصد بڑھ گئیں- ملک میں حالیہ10ہفتوں دوران چینی اوسط 21روپے26پیسےفی کلومہنگی ، چینی قیمت 153.11روپےفی کلوپرپہنچ گئی افغانستان کےلیےپاکستانی برآمدات میں سب سےزیادہ حصہ چینی کا ہے۔حکومتی ذرائع کےمطابق رواں مالی سال 2024۔25 کےپہلے7ماہ جولائی تا جنوری کے دوران افغانستان کےلیےچینی کی برآمد4ہزار332 فیصد اضافے کے بعد26کروڑ27لاکھ ڈالرز پر پہنچ گئیں جبکہ گذشتہ سال اسی مدت میں افغانستان کےلیےچینی کی برآمد کا حجم59لاکھ ڈالرز تھا-موجودہ حکومت نےجون 2024سے لیکر اکتوبر2024 کےدوران مجموعی طور پر7 لاکھ 50 ہزارمیٹرک ٹن چینی برآمدکرنےکی اجازت دی-اکتوبر2024میں آخری بار5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی اورنومبرکے آخر سے لیکر اب تک چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافےکےباعث شہریوں کے جیبوں سے اربوں روپےاضافی نکال لیے گئے- دستیاب سرکاری ڈیٹا کےمطابق ملک میں حالیہ 10 ہفتوں کے دوران چینی اوسط 21روپے 26پیسےفی کلومہنگی ہوئی جس کے بعدچینی کی اوسط قیمت۔153 روپے 11پیسےفی کلوپرپہنچ چکی ہے-دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک میں چینی کی زیادہ سےزیادہ قیمت 160 روپےتک ہے اورملک میں چینی کی اوسط قیمت10 ہفتے قبل131روپے85پیسےفی کلو تھی۔