بی یو جے ،بلوچستان بار اور ایچ آر سی نے پیکا ترمیمی ایکٹ کو چیلنج کردیا

15 فروری ، 2025

کوئٹہ (آن لائن) بلو چستان یونین آف جرنلسٹس ،بلوچستاں بار کونسل اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 کے بل کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ آئینی درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے آئینی درخواست میں عدالت عالیہ سے متنازع پیکا ایکٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ عوام کے بنیادی آئینی حقوقِ کی خلاف ورزی ہے ، آئینی درخواست میں موقف کے بارے میں آئینی درخواست دائر کرتے وقت صدر بی یو جے خلیل احمد ، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور ایچ آر سی پی بلوچستان کے وائس چیئرپرسن کاشف کاکڑ پانیزئی ،آئینی درخواست جمع کرتے وقت بی یو جے قیادت سمیت سینئر صحافیوں کی کثیر تعداد بھی عدالت عالیہ میں موجودتھی۔اس موقع پر بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ انسانی حقوق کے خلاف ہے اور پیکا ایکٹ صحافیوں کی آواز دبانے کے مترادف ہے۔ ،انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت عالیہ سے امید ہے کہ انصاف فراہم کرے گی پیکا ایکٹ میں ترامیم کی مذمت کرتے ہیں، پیکا ایکٹ نے جمہوریت کے بنیادی تصور کو متاثر کیا ہے، معاشرے میں آزادی اظہار کی اجازت ہونی چاہئیے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی سے اس طرح کے غیر آئینی اقدامات کی توقع نہیں تھی ،اندھی گونگی پارلیمنٹ نے پیکا ایکٹ کو پاس کیا اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر خلیل احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری روایات کو پامال کیا ہے ہمیں عدلیہ سے امید ہے کہ وہ پیکا ایکٹ ختم کرکے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی۔