بھارتی تخریبی کارروائیاں بے نقاب

اداریہ
15 فروری ، 2025

طویل عرصے سے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ سے قبل ایک بار پھر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پر امن علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی سازش ٹھوس شواہدکیساتھ بے نقاب ہوئی ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستانی افواج پر دراندازی کے جھوٹے الزامات کیلئے فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی مقابلے بھی کیے جاتے ہیں۔ڈبل ایجنٹوں کے ذریعے اسلحہ کی کھیپ کو بھارتی سرحدی یونٹوں کے ساتھ مل کر اسمگل کیا جاتا ہے تاکہ ان کو پاکستانی ہتھیار ثابت کیا جائے۔حال ہی میں ایل او سی پر آئی ای ڈیز(دھماکہ خیز مواد)کی نقل و حمل اور تخریبی کارروائیوں کی بے نقاب ہونے والی سازش کا مذموم مقصد بھی یہی ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگرد ی کی حمایت کرنے والا ملک ثابت کر سکے۔امریکی صدر ٹرمپ کیساتھ نریندر مودی کی ملاقات میں بھی ایف 35سمیت کئی ارب ڈالر کا سامان بھارت کو دینے اور دونوں ملکوں کا دہشت گردی کیخلاف مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا گیا۔امریکہ سمیت عالمی برادری کو ادراک ہونا چاہئے کہ بھارت کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی دراندازی اور تخریبی سرگرمیوں کے ناقابل تردید شواہد کی تاریخ موجود ہے۔کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر اور امریکہ میں گرو پنونت سنگھ پنن کے قتل کی سازش اسی سلسلے کی کڑی تھی۔2016ءکے بعد سے بھارت کی ایل او سی پر آئی ای ڈیز لگانے کے 54واقعات سامنے آئے ہیں۔پاکستان نے آئی ای ڈیز کی تازہ نقل و حمل پر بھارت سےاحتجاج اور ان علاقوں میں موجود اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ بھارتی تخریبی سرگرمیوں کے شواہد کا تبادلہ کیا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق فائر بندی کی خلاف ورزی اور ہتھیاروں کی نقل و حمل خطے میں امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان بھی اسی انداز میں جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔