6جنوری کوبیٹاگھرسےنکلا‘واپس نہ آنے پر تلاش کاآغازکیا ‘والدہ

15 فروری ، 2025

کراچی( ثاقب صغیر/اسٹاف رپورٹر )مقتول مصطفیٰ کی والدہ نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ6جنوری کو میرا بیٹا گھر سے گاڑی لے کر نکلا،بچہ گھر واپس نہیں پہنچا تو تلاش شروع کی گئی ۔واقعہ کا مقدمہ بہت مشکلات کے بعد پولیس نے درج کیا ۔والدہ کے مطابق ہم تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن پولیس نے تعاون نہیں کیا۔مقتول کی والدہ کے مطابق ہم مصطفیٰ کو خود تلاش کرتے رہے اور اس کے دوستوں سے پوچھتے رہے ۔ارمغان پہلے ہم سے بات کرتا رہا لیکن پھر اس نے بدتمیزی شروع کر دی جس پر ہمیں شک ہوا۔بعد ازاں ہم سے غیر ملکی نمبر سے کال کر کے 2 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔نوجوان کی والدہ نے بتایا تھا کہ ہم نے سی ڈی آر ،لوکیشن ،وائس نوٹ ،میسج چیٹ سب خود پولیس کو فراہم کیا ۔تمام شواہد دینے کے باوجود اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کچھ نہیں کیا ۔علاوہ ازیں مقتول مصطفیٰ کی والدہ نے گزشتہ روز 13 فروری کو ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس تین روز تک ملزم سے میرے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں نکال سکی۔ملزم اپنے بیانات بدلتا رہا۔ریمانڈ دینے کے بجائے ملزم کا میڈیکل کروا کر اسے جیل بھیج دیا گیا ۔گولیاں چلنے کے بعد اتنے بڑے دہشت گرد کو کیوں بچایا جا رہا ہے؟۔جج صاحب ریمانڈ دیں اور اگر آپ نے جے آئی ٹی کا آرڈر لکھ دیا ہے تو براہ کرم اس کی کاپی ہمیں دیں تاکہ مجھے پتا چلے کہ اس میں میرے مصطفیٰ کی بازیابی کا ذکر ہے یا اسکو کلین چٹ دی گئی ہے۔انہوں نے جج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملزم کے والد کے ساتھ چائے پی رہے ہیں جبکہ ملزم آرام سے جیل میں بیٹھا ہے اور میرے بچے کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔اس دہشت گرد سے کوئی سوال کیوں نہیں کر رہا؟۔جج صاحب جواب دیں کہ آپ ملزم کو کیوں بچا رہے ہیں؟۔