کراچی(رپورٹ/محمد منصف)قانونی ماہرین نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانے میں تفتیشی افسر کا کردار اہم قرار دیتے ہوئے کہاہےکہ کرائم سین سے شواہد جمع کرنا اور چشم دید گواہ سمیت لواحقین میں سے گواہان کی نامزدگی نہایت اہمیت کا معاملہ ہےجبکہ انسپکٹرلیول کے تفتیشی افسرکی تعیناتی بھی استغاثہ میں اہم کردار ادا کرے گی‘غلط تفتیش یا استغاثہ کی غفلت پر مبنی زرا سی بھی خامی یا خامیاں ملزم کو بریت دلوا سکتی ہے ۔ سندھ بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین حیدرامام رضوی کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ قتل کیس پولیس کی نااہلی ثابت کرتا ہے‘ تفتیشی شعبے میں ماہر اورتجربہ کار افسران کی دستیابی نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔عام تاثر ہے کہ پولیس میں نااہل اور کرپٹ افراد کی بہتات ہے اور بروقت کارروائی نہ ہونے سے شہریوں کی جان و مال ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مصطفیٰ عامر قتل کیس انسداد دہشتگردی ایکٹ کے زمرے میں آتاہے کیونکہ قتل سے قبل اسے اغوا کیاگیا اور تاوان بھی طلب کیا گیا‘مذکورہ جرم کی سزا موت ہے‘ دیت و جرمانہ الگ سے عائد ہوسکتاہے تاہم اس سارے عمل میں استغاثہ کا کردار اہم ہے ‘اس کیس کے تفتیشی افسر کےلیے بھی موقع ہوگا کہ وہ اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کیس کو مثال بنا دے ۔حیدر امام رضوی نے مزیدکہ وکالت کے حق سے کسی ملزم کو محروم نہیں رکھا جاسکتاالبتہ قانون میں موجود سقم کو دور کرنے کی ضرورت ہے اورانقلابی تبدیلیاں کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ بار ایسوسی ایشنز اس میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔سینئرقانون دان شوکت حیات ایڈووکیٹ نے کہاکہ اہم نوعیت کا مقدمہ ہے لیکن اگر تفتیش درست سمت میں نہ ہوئی تو ملزم یا ملزمان کو سزا نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے کہاکہ استغاثہ کے گواہان مقتول کی فیملی میں سے ہونے چاہئیں‘سزا دلوانے کے لئے 2 چشم دید گواہان بھی کافی ہیں‘تفتیشی افسر کےلیےجائے وقوعہ کا معائنہ ‘آلہ قتل سمیت شواہد جمع کرنا ،مقتول کی نعش برآمد کرنا اہم امور ہیں۔شوکت حیات ایڈووکیٹ نے کہاکہ مقدمے کا اے ٹی سی ٹرائل ہونا چاہئے اورعدالتی کارروائی کا مکمل ہونا شواہد پر منحصرہوگا تاہم استغاثہ کی خامیاں سامنے آئیں تو فائدہ ملزم کو ملے گا اور وہ باآسانی بری ہوسکتا ہے ۔ استغاثہ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہئےاس حوالے سےانہوں نے مزید کہاکہ وہ ائیرپورٹ بم دھماکہ کیس میں وکیل ہیں جس میں 4 ماہ گزر گئے لیکن تفتیشی افسرنے ابھی تک چالان پیش نہیں کیا جس کا فائدہ وہ ان کے زریعے ملزم کو ملے گا۔کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نےکہاکہ استغاثہ کا کردار اہم ہے شواہد میں کال ڈیٹا ،سی سی ٹی وی فوٹیج ،فنگرپرنٹس،آلہ قتل ،گواہان کی نامزدگی اور تفتیشی افسر کی قابلیت کو مدنظر رکھنا لازمی ہوگاتاکہ ملزم کیفر کردار تک پہنچ سکے، انہوں نےکہاکہ مقدمہ ایک ماہ میں بھی نمٹایا جاسکتا ہے جبکہ تاخیرکی کوئی حد مقرر نہیں،مختلف وجوہات کی بنا پر دس یا بیس سال بھی مقدمہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے ۔
بیجنگبیجنگ کی وزارتِ تجارت اور واشنگٹن کے وزیرِ خزانہ نے اتوار کو بتایا کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ حکام آنے...
مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کی اٹارنی جنرل نے اسرائیل کی خفیہ جاسوس ایجنسی موساد کے اگلے سربراہ کی تقرری...
کراچی تیل کا عالمی بحران، بھارتی وزیر اعظم کی عوام سے ایندھن بچانے کی اپیل ،زرمبادلہ کے ذخائر بچانےکیلئے...
ملتان پولیس نے زیادتی کے مختلف واقعات کی اطلاع پر دو افراد کو گرفتار کرکے کارروائی شروع کردی ۔ گلگشت پولیس کو...
جہانیاں ڈی پی او خانیوال چوہدری محمد عابد نے فرائض میں غفلت لاپرواہی اور ایف آئی آر کے لیٹ اندراج پر ایس...
ملتان آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی جانب سے مرکزی و صوبائی قیادت کی کال پر ملتان ڈویژن کے مختلف سرکاری...
ملتان ممتازآباد میں خاتون اور بچوں کی پراسرار موت کا معمہ حل نا ہوسکا۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کو عدالت میں...
شجاع آباد پولیس تھانہ سٹی شجاع آباد نے چوریوں اور ڈکیتیوں میں ملوث چار افراد کے گینگ کو پکڑ لیا۔ملزمان کے...