مصطفیٰ کو زندہ ہی آگ لگائی تھی

15 فروری ، 2025

کراچی(جنگ نیوز)مصطفیٰ کو قتل کے بعد نہیں جلایا، زندہ کو ہی آگ لگائی تھی، ملزم شیراز نے دوران تفتیش رونگھٹے کھڑے کردینے والا انکشاف کردیا۔ ملزم کے مطابق مصطفی اور ارمغان میں لڑکی کے معاملے پر جھگڑا تھا۔ ارمغان نے مصطفی کو بہانے سے گھر بلوایا۔ ہم نے راڈ سے تین گھنٹے تشدد کیا۔ نیم بے ہوش مصطفیٰ کو منہ پرٹیپ لگا کرحب لے گئے۔ گاڑی کی ڈگی میں نیم بیہوشی کی حالت میں ہی جلا ڈالا۔ مصطفی اور ارمغان میں لڑکی کے معاملے پر جھگڑا تھا، ارمغان اور شیراز نے بنگلے پر3 گھنٹے تک مصطفیٰ پر تشدد کیا، پھر ملزمان اسے حب لے گئے اور زندہ شخص کو پیٹرول چھڑک کر گاڑی کے ساتھ جلا دیا۔ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیورو اور سی آئی اے نے مصطفی اغوا کیس حل کرنے میں اہم کردار سامنے آیا ہے، ملزم شیراز نے تحقیقات میں سب کچھ اگل دیا، ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے گھر بلوایا، دونوں نے لوہے کی راڈ سے 3 گھنٹے تشدد کیا۔مصطفیٰ کو نیم بیہوش کرنے کے بعد منہ پر ٹیپ باندھ دی، مصطفی کو لے کر شیراز، ارمغان کیماڑی سے حب پہنچے، دھوراجی سے 2 کلو میٹر دورپہاڑی کے قریب گاڑی روکی۔ملزمان نے ڈگی کھولی تو اسوقت تک مصطفیٰ زندہ تھا، دونوں ملزمان نے ڈگی میں پڑے مصطفیٰ پرپیٹرول چھڑکا، دونوں نے دور کھڑے ہوکر لائٹر جلا کر مصطفی پر پھینکا۔آگ لگانے کے بعد ملزمان 3 گھنٹے پیدل چلتے رہے، کسی نے لفٹ نہ دی تو سوزوکی پک اپ والے کو2 ہزار روپے دے کرکراچی میں فورکے چورنگی پہنچے اور پھررکشہ کیا۔