بھارت، بنگلہ دیش سرحدی کشیدگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات بغیر نتیجہ ختم

23 فروری ، 2025

اسلام آباد (فاروق اقدس) بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی کشیدگی ختم کرنے کیلئے ہونے والے چار روزہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے اور بنگلہ دیش کی جانب سے متنازعہ پہلوئوں پر مزید تبادلہ خیال کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم صورتحال پر نگاہ رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق فریقین تعلقات معمول پر لانےکیلئے کوشاں مگر بدگمانیاں اتنی گہری ہیں کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی، دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی فورسز بارڈر سکیورٹی فورسز کے درمیان ڈائریکٹر جنرلز کی قیادت میں ہونے والے ان مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کوششوں میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان مذاکرات کے دوران باہمی سرحد کی زیرو لائن سے 150 گز خاردار تاروں کی باڑ لگانے بنگلہ دیش سے بھارت میں ہتھیاروں اور منشیات کی مبینہ سمگلنگ اور شورش پسندوں کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ مذاکرات کے اختتام پر جاری کئے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین تنازعات کو تمام سطحوں پر مسلسل، تعمیری اور مثبت بات چیت سے حل کرنے کے عزم کے پابند ہیں۔ انہوں نے مذاکرات میں زیربحث آنے والے تمام امور کو نیک نیتی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ عالمی امور کے ماہر سنجے کپور کا کہنا ہے کہ فریقین اگرچہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کے اندر بدگمانیاں اتنی گہری ہوچکی ہیں کہ کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ چاہتا ہے کہ شیخ حسینہ خاموش ہوجائیں اور بیانات جاری نہ کریں لیکن شیخ حسینہ خاموش رہنے پر تیار نہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس جنوب ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم ’’سارک‘‘ کو فعال کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن بھارت کی جانب سے ایسی تمام کوششوں کو مسلسل ناکام کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ سرگرم پلیٹ فارم 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد غیرفعال ہوچکا ہے۔