بولان: دہشت گرد حملہ!

اداریہ
13 مارچ ، 2025

کوئٹہ سے 157اور سبی سے21کلومیٹر دور وادی بولان میں ڈھاڈر کے علاقے میں پنیر ریلوے اسٹیشن کے قریب مشکاف ٹنل کے مقام پر منگل کی دوپہر دہشت گردی کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔بی ایل اے کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو روکنے کیلئے ریلوے پٹڑی دھماکے سے اڑادی۔ڈرائیور قریبی پہاڑوں سے ہونے والی فائرنگ سے بچنے کیلئے ٹرین کو واپس سرنگ میں لے آیا،جسے دہشت گردوں نے گھیرے میں لے کر ہائی جیک کرلیااور عورتوں اور بچوں سمیت تقریباً ساڑھے چارسو مسافروں کو یرغمال بنالیا۔سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرکے آخری اطلاعات تک190مسافر بازیاب کرالیے تھے۔اس دوران دہشت گردوں اور فورسز میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 30دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔جبکہ ٹرین ڈرائیور اور سیکورٹی اہل کاروں سمیت 10افراد نے جام شہادت نوش کیا۔اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔دہشت گردوں نے انسانی جانوں کو ڈھال بناتے ہوئے انھیںتین مقامات پر یرغمال بنا رکھا ہے۔سیکورٹی فورسز کے مطابق مسافروں کی مکمل بازیابی اور آخری دہشت گرد کی موجودگی تک آپریشن جاری رہے گا۔اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئےفائرنگ کے دوران زخمی ہونے والوں کو سبی اور کچھی پہنچادیا گیا ہے۔یرغمالیوں میں سیکورٹی اہل کار بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔دہشت گرد مسافروںکے شناختی کارڈ چیک کرکے ان میں سے کافی بڑی تعداد کو اپنے ساتھ پہاڑوں پر لے گئے۔یہ وہ لوگ ہیں جو عید گزارنے کیلئےبلوچستان سے اپنے آبائی علاقوں کو جارہے تھے۔محکمہ ریلوے نے بلوچستان سے ملک کے دوسرے حصوں کیلئے ٹرین سروس تین روز کیلئےمعطل کردی ہےاور روانہ ہونے کیلئے تیار گاڑیاں روک دی گئیں۔ٹرین ہائی جیکنگ کے واقعہ کے دوران دہشت گردوں کو افغانستان میں موجود ماسٹر مائنڈ سے مسلسل ہدایات ملتی رہیں جبکہ پاکستان دشمن بھارتی میڈیا فوری طور پر متحرک ہوگیا اور اپنے مذموم مقاصدکے پراپیگنڈے کی خاطر جھوٹی خبریں دینے کے ہتھکنڈوں پر اتر آیا۔سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے ۔صدر مملکت ،وزیراعظم،وزیرداخلہ اور دوسرےاکابرین نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہےاور دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی کے عزم کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی انسانی جانوں کو ڈھال بنانے کی اس مذموم کوشش کو ناقابل قبول قرار دیاہے۔بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے اور دوسری دہشت گرد تنظیمیں تخریبی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔جن میں سیکڑوں بے گناہ مرد،عورتیںاور بچے شہید ہوچکے ہیں،مگر ٹرین ہائی جیکنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی ،بی ایل اے اور بیرون ملک مقیم سازشی عناصر نے کی ۔سیکورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود ایک بڑی ٹرین پر حملے کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے دیگر مزید اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔حکومت اور سیکورٹی اداروں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہئےاور اسےبارآور اورنتیجہ خیز بنانے کی ہرممکن سعی کرنی چاہئے۔اس حوالے سے بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں امن وامان یقینی بنانے کیلئےتمام سیاسی پارٹیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر آگے بڑھنا چاہئےتاکہ ملک دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں ملائے جاسکیں۔اس کے ساتھ ہی افہام وتفہیم سے معاملات یکسو کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئےاورمذاکرات اور آپریشن ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں۔