نہروں کا معاملہ: اتفاق ضروری

اداریہ
13 مارچ ، 2025

صوبہ پنجاب میں واقع چولستان کے صحرائی علاقے میں کاشتکاری کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیر اہتمام دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے پروگرام پر اس معاملے کے آغاز ہی سے سندھ کے سیاسی اور عوامی حلقے سنجیدہ خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ صدر مملکت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی اس حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا وفاقی اکائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کافیصلہ یکطرفہ ہے، بحیثیت صدر اس کی حمایت نہیں کر سکتا، حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کو صوبے کے عوام کیلئے زندگی اور موت کا معاملہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس بارے میں مشترکہ مفادات کونسل میں متفقہ فیصلہ ہونا چاہیے۔پانی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی خاموشی کے بیانیہ کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو سیاستداں اس مسئلے پر غلط فہمی پیدا کر رہے ہیں، وہ اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم یہ بات اطمینان بخش ہے کہ وزیر اعظم نے ایک دن پہلے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات میں نہروں کے معاملے کو اتفاق رائے سے طے کرنے اور اس سمیت پیپلز پارٹی کی تمام شکایات دور کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس جلد بلانے کی یقین دہانی کرائی ہے جس میں دونوں حکمراں جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوں گے اورنہروں اور دوسرے امور خصوصاً پنجاب میں پیپلزپارٹی کو لاحق شکایات پر فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے۔ امید ہے کہ یہ اجلاس مثبت نتائج کا سبب بنے گاتاہم سیاسی نظام کے پائیدار استحکام کیلئے حکومت کو تمام فیصلے مستقل طور پر اتحادی جماعتوںکو اعتماد میں لے کر ہی کرنے چاہئیں تاکہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہی نہ ہو۔