اسلام آباد، کراچی (نامہ نگار خصوصی ،نیوز رپورٹر، نمائندہ خصوصی،نیوز ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن مکمل کر لیا ، یرغمالیوں کو بازیاب اور وہاں پر موجود تمام 33 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ،آپریشن میں کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا، آپریشن میں آرمی، ایئرفورس، فرنٹیئر کوراورایس ایس جی کمانڈوزنےحصہ لیا،مشترکہ کارروائی میں سب سے پہلے خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا اور یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کروایا گیا،آپریشن سے قبل دہشگردوں کی بربریت میں 21 مسافر شہید ہوگئے جبکہ ایف سی کے 4 جوان شہید ہوئے،سکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ حملے میں 27آف ڈیوٹی اور ایک آن ڈیوٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 30گھنٹوں بعد تمام 346یرغمالیوں کو رہا کروالیا گیا ہے۔ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جعفر ایکسپریس کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ابھی میری وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جنہوں نے مجھے جعفر ایکسپریس پر ہونے والے گھناؤنے دہشتگرد حملے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اس گھناؤنے فعل سے شدید صدمے میں ہے اور معصوم جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہے، ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستان کے امن کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیر اعظم نے کہا کہ آپریشن کے دوران درجنوں دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری ،وزیراعظم شہباز شریف ،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جعفر ایکسپریس آپریشن مکمل کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جعفر ایکسپریس پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو ایک بجے بولان کے قریب ریلوے ٹریک کو پہلے دھماکے سے اڑایا گیا، دہشتگردوں نے بعد میں جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا، دہشتگرد افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے،حملے کی ہدایت افغانستان سے ملی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن کامیاب ہو چکا ہے اور آپریشن کے دوران کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچا، جعفر ایکسپریس میں 440 مسافر سوار تھے،مسافروں کو تین ٹولیوں کے شکل میں الگ الگ بٹھایا گیا تھا ، مسافروں کی ٹولیوں کے ساتھ خودکش بمبار بھی موجود تھے،جنہیں ماہر نشانہ بازوں نے ٹھکانے لگایا، انتہائی احتیاط اور مہارت سے آپریشن کیا گیا اور مسافروں کو بازیاب کرایا گیا، علاقہ دشوارگزار، آبادی اور روڈ سے دور ہے، دہشتگردوں نے یرغمالیوں کوانسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا واقعے کے بعد بھارتی میڈیا پر گمراہ کن رپورٹنگ شروع ہوئی، پرانی تصاویر، ویڈیوز اور اے آئی ویڈیوز بھارتی میڈیا پر نشر کی گئیں، یہ دہشتگردوں اور ان کے آقاؤں کا گٹھ جوڑ ظاہر کرتے ہیں، ایسے موقع پر بھی کچھ مخصوص سیاسی عناصر بھی بڑھ چڑھ کر اپنے سوشل میڈیا کو فعال کر لیتے ہیں اور دہشتگردی کے اس بھیانک عمل کے لئے بے بنیاد جواز پیدا کرتے نظر آتے ہیں۔، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دہشتگرد دوران آپریشن افغانستان میں اپنے سہولت کاروں اور ماسٹر مائینڈ سے سیٹلائیٹ فون کے ذریعے رابطے میں رہے، موقع پر موجود تمام دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم علاقے اور ٹرین کی کلیئرنس اور جانچ پڑتال ایس او پی کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مغوی مسافر جو آپریشن کے دوران دائیں، بائیں علاقوں کی طرف بھاگے ہیں، ان کو بھی اکٹھا کیا جارہا ہے، کسی کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ وہ پاکستان کے معصوم شہریوں کو سڑکوں پر، ٹرینوں میں، بسوں میں یا بازاروں میں اپنے گمراہ کن نظریات اور اپنے بیرونی آقاؤں کی ایما اور ان کی سہولت کاری پر نشانہ بنائیں،ایسا کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے نے گیمز کے رولز تبدیل کر دئیے ہیں، کیونکہ ان دہشتگردوں کا دین اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ جیسے ہی واقعہ ہوتا ہے کہ تو چند منٹوں میں بھارتی میڈیا میں نہ صرف اس واقعے کی گمراہ کن رپورٹنگ شروع ہو جاتی ہے، پرانی تصاویر، پرانی فوٹیجز کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی ویڈیوز اور تصاویر بھی نشر کرنا شروع کر دی جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے آقاؤں کا گٹھ جوڑ پوری دنیا کے سامنے واضح ہو جاتا ہے، یہ پہلے بھی واضح ہے، جب کلبھوشن یادیو کا واقعہ ہوا کہ کس طرح وہ بلوچستان میں دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کچھ مخصوص سیاسی عناصر بھی بڑھ چڑھ کر اپنے سوشل میڈیا کو فعال کر لیتے ہیں، اور بجائے اس کے وہ ریاست پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، وہ دہشت گردی کے اس بھیانک عمل کے لئے بے بنیاد جواز پیدا کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ذاتی اقتدار کی ہوس میں کچھ عناصر قومی مفاد کو بھی بھیٹ چڑھا رہے ہیں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کے باشعور عوام ان تمام چیزوں کو نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ انتشاری سیاست کی پیچھے جو پیچیدہ ہاتھ ہیں، ان کو سمجھ آ رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ قانونی طور پر لاء اینڈ فورسمنٹ اور اندرونی امن و عامہ کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ آرمڈ فورسز کی ذمہ داری ہے ۔ جو لوگ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے جھوٹے بیانیہ بناتے ہیں ان کو چاہیے کہ پہلے خود تو قانون کا ان معاملوں میں احاطہ کرلیں ۔ دوسری بات دہشت گردی روزانہ کی بنیاد کی ایک سو ساٹھ سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن افواج پاکستان انٹیلی جنس آرگنائزیشن کر رہی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ جو تمام عوامل دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں اور جن میں لیڈ سیاسی اور معاشرتی لیڈ نے لینی ہے ان معاملات کا کیا بنا ہے۔ دہشتگردوں کو سخت سزائیں ملنی چاہیں قانون کے مطابق جو غیر قانونی اسپکٹریم ہے ہم وہاں کہاں کھڑے ہیں فیصلے ہوچکے ہیں ریواو نیشنل ایکشن پلان میں کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک بیانیہ بنے گا قوم کا دہشت گردی کے خلاف ہم اس میں کہاں کھڑے ہوئے ہیں ان سوالات پر پردہ ڈالنے کے لیے اس طرح کے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں صدر مملکت نے آپریشن کے دوران 21 شہریوں اور 4 ایف سی جوانوں کی شہادت پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ، اور فورسز کی جانب سے موثر کاروائی میں 33 دہشت گرد جہنم واصل کرنے پر فورسز کی بہادری کی تعریف کی ، اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوج کے سپہ سالار کی متحرک قیادت کی بدولت جعفر ایکسپریس آپریشن کی بغیر کسی بڑے نقصان کے تکمیل ممکن ہوئی، ہمارے بہادر جوانوں اور افسروں نے بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کیا، انہوں نےآپریشن میں سیکورٹی فورسز کے جوانوں اور ٹرین کے مسافروں کی شہادت پر رنج کا اظہار کیا، انہوں نے شہداء کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ، انہوں نے کہا کہ نہتے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کا دین اسلام اور اس ملک سے کوئی تعلق نہیں،معصوم شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو ہر محاذ پر شکست دینے کیلئے پر عزم ہیں۔ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق نے جامِ شہادت نوش کرنے پر 4 ایف سی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے خواتین اور بچوں کی جانیں بچانے کیلئے انتہائی احتیاط سے کام لیا، انہوں نے کہا ہماری تمام تر ہمدردیاں شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں کے ساتھ ہیں،دہشتگردی کا یہ واقعہ انتہائی دلخراش ہے،معصوم بچوں اور خواتین کو انسانی ڈھال بنانا انتہائی غیر انسانی عمل ہے ۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے بھی جعفر ایکسپریس پر دہشتگرد حملے کے خلاف بہادری سے لڑنے والی سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین کیا ہے۔
اسلام آ باد بنگلہ ہ دیش کے قائم مقام صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر حافظ الدین احمد کی خصوصی دعوت پر سابق سیکرٹری...
اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیر 11 مئی سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے کیلئے 8 بینچ تشکیل دے دیئے گئے ہیں جو پیر 11...
کراچی متحدہ عرب امارات میں آج سے اسکولوں میں دوبارہ روایتی کلاسز بحال، وزارتِ تعلیم نے تمام سرکاری و نجی...
کراچی اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمی ختم کیے بغیر جنگ ختم نہیں ہوسکتی،...
کراچی ویز اسٹریٹنگ نے خود کو وزارتِ عظمیٰ کیلئے پیش کر دیا، اسٹارمر کی مشکلات میں اضافہ، وزیر صحت نے ممکنہ...
اسلام آ باد قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن آلجاسم آلثانی نے اتوار کے...
کراچی امریکی اخبار کا کہنا ہے اسرائیل نے عراق میں خفیہ فوجی اڈے سے ایران کیخلاف جنگی کارروائیاں کیں۔ عراق کو...
اسلام آ باد، بنوں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے رابطہ کرکے...