بلوچستان کے مسئلے کا حل شفاف انتخابات ہیں ‘عادل بازئی

13 مارچ ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر مملکت ریلویز بلال اظہر کیانی کاکہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا کوئی اور صوبہ ہو۔بلوچستان کے مسائل کا حل ہم نے بلوچوں کے ساتھ بیٹھ کر نکالنا ہےجبکہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی نے کہاہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل صاف و شفاف الیکشن ہیں‘ حقیقی نمائندوں کو موقع دیا جائے تو بلوچستان کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے‘سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی کے مطابق یہ بنگلہ دیش کو بھی ایشو نہیں سمجھتے تھے۔یہ ایشوز کو دبا دیتے ہیں قوم کو سچ نہیں بتاتے‘یہ آگ جیوانی اور موسیٰ خیل تک پھیل گئی ہے‘پورے صوبے کو آگ جلا رہی ہے‘ان کے پاس ویژن نہیں ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک ‘‘میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔حامد میرنے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعے پر بلوچستان اسمبلی میں بہت بات چیت ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی میں بلوچستان پر بحث کیوں نہ ہوسکی؟ بلوچستان میں امن قائم ہوسکتا ہے یا نہیں؟ حامد میرنے مزید کہا کہ اکبر بگٹی تحریک پاکستان میں بھی سرگرم تھے۔قائداعظم کی مسلم لیگ کو چندہ بھی دیا کرتے تھے۔ اکبر بگٹی کو بعد میں غدار وطن قرار دے کران کے خلاف آپریش کیا گیا۔جو لوگ پاکستان کی تحریک میں قائداعظم کے ساتھ تھے ۔ ان کے ساتھ ایسا کیا ہواکہ ریاست ان کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ یہ ایک سوال ہے اس پر غور کیجئے جواب آپ کو مل جائے گا۔بلال اظہر کیانی نے کہا یہ نہیں ہوسکتا کہ دہشت گردی کا معاملہ ہوگیا تو باقی لاء اینڈ آرڈر کے معاملات چھوڑ دیں۔عادل خان بازئی کاکہناتھا ایک مہینے سے زائد ہوگیا ہمیں اسمبلی میں بات کرنے نہیں دی جارہی ‘ہمیں موقع ملے تو ہم احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔ جتنا ظلم ہمارے ساتھ ہو رہا ہے دنیا کی تاریخ میں نہیں ہوا ہے۔میرا ایک ارب روپے کا پلازہ کس قانون کے تحت گرایا گیا۔میں پلازہ کا این او سی اور بینک چالان دکھاؤں گا۔امان اللہ کنرانی نے کہا لوگوں کو تحفظ کا یقین دلانا ہوگا۔ کبھی کسی نے ریاست کے خلاف بات نہیں کی۔