ڈھاکہ (اے ایف پی) بنگلہ دیشی یونیورسٹی کی طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار آصف سردار ارنب کو جلد ہی رہا کر دیا گیا، ایک پرجوش ہجوم نے ان کا استقبال کیا، جس نے انہیں پھولوں کے ہار اور قرآن پاک پیش کیا۔ مبینہ شکار طالبہ نے پرجوش انداز میں نوجوانوں کی قیادت میں اس بغاوت کی حمایت کی جس نے گزشتہ سال ملک کی آمرانہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ نوجوان خاتون،سیاسی ہلچل کی وجہ سےبلند حوصلہ مذہبی سخت گیر افراد کی جانب سے پرتشدد دھمکیاں ملنے کے بعد اب حیران ہیں کہ آیا انہوں نے صحیح انتخاب کیا۔انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ہجوم کی وجہ سے ایک مجرم کو رہا کر دیا گیا۔طالبہ نے مزید کہا کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ مجھے کتنی جنسی زیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں،طالبہ کی شناخت بنگلہ دیشی قوانین کی وجہ سے نہیں کی جاسکتی، جو جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والوں کو انتقام سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔طالبہ نے مزید کہا کہ ہم نے تحریک میں شامل ہو کر غلطی کی ، اتنے لوگوں نے اپنی جانیں رائیگاں دیں۔ممتاز ڈھاکہ یونیورسٹی کی لائبریری میں کام کرنے والےآصف سردار ارنب نے کیمپس میں ایک طالبہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھاکہ اس کا لباس کا اسکے جسم کو مناسب طریقے سے نہیں ڈھانپ رہا۔طالبہ نے شکایت کی، اور آصف سردار ارنب کو گرفتار کر لیا گیا۔آصف سردارارنب کے حامیوں نے، جن کا خیال تھا کہ اس نے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق درست کیا ہے، پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نےہتھیار ڈال دیے، جب عدالت نے آصف سردارارنب کو فوری طور پر ضمانت دے دی، جس کی وجہ طالبہ نے ہجوم کے دباؤ کو قرار دیا۔ڈھاکہ کی پولیس فورس کے ترجمان محمد طالب الرحمان نےبتایا کہ آصف سردار ارنب سے ابھی تک تفتیش جاری ہے، اور اس نے اس کے شکار کو خطرناک رویے کا سامنا کرن کا اعتراف بھی کیا ہے۔محمد طالب الرحمان نے مزید کہا کہ طالبہ انہیں دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف شکایت درج کر سکتی ہے۔ڈھاکہ یونیورسٹی کی 23 سالہ طالبہ جنت الپرومی نے کہا کہ ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نوجوان خواتین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک بحران سے گزر رہے ہیں۔ایک دن میں میٹرو کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا مجھے بغیر نقاب کے باہر جانا چاہیے۔ جیسے ہی میں نے جواب دیا، اور لوگ میرے خلاف اس کے ساتھ ہو گئے۔ساتھی طالبہ 24 سالہ نشاط تنجیم نیرا نے کہا کہ حکام اپنی ڈیوٹی ادا کرنےمیں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بار بارہراساں کرنے کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ان کا کوئی ازالہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ عبوری حکومت کی قیادت کرنے والےنوبل امن انعام یافتہ محمد یونس نے خواتین کے خلاف تشدد کی ہولناک کارروائیوں کی مذمت کی۔انہوں نے کہاکہ یہ شدید تشویشناک اورہمارے نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کے خواب سے پوری طرح متصادم ہے۔حقوق نسواں مہم گروپ بنگلہ دیش مہیلا پریشد کی ملیکہ بانو نے کہا کہ پولیس کے وسائل کو جنسی تشدد پر قابو پانے کی کوششوں پر بہتر طور پر خرچ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہحکومت کا محض تشویش کا اظہار کرنے سے کیا فائدہ؟ ہمیں کارروائی کی توقع تھی۔
بیجنگ جنوبی چین میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک سانپوں کے فارم کو نقصان پہنچنے کے بعد...
چندی گڑھ ریاست ہریانہ کے پنچ کولہ ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کے اندر وکلاء کے ایک گروپ نے بھارتی فوج کے ایک حاضر...
سری نگرمقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گزشتہ روزنئی دہلی حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کے درجہ...
سری نگر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر...
لاہورفیصل ٹاؤن پولیس نے 1 کروڑ 40 لاکھ مالیت کے بجلی کے میٹر برآمد کر کے 3 ملزمان گرفتار کر لیے۔ فیصل ٹاؤن...
لاہورایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نےبچی اغواء کیس میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی،عدالت نے...
لاہورہربنس پورہ پولیس نے 45 سے زائد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ شادی کے فنکشن پر معصوم شہریوں کے موبائل چوری کرنے...
لاہور صوبائی دارالحکومت لاہور میں جیب تراش گروہ سرگرم،شہریوں کی جیبیں خالی ہونے لگیں۔ رواں سال ہزاروں...