دہشتگردی کیخلاف عالمی حمایت

اداریہ
16 مارچ ، 2025

پاکستان پچھلے ڈیڑھ سال سے ایک بار پھر دہشت گردی کے جس دشوار چیلنج سے نبردآزما ہے، بلوچستان میں مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس کے چار سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے اور ان میں سے26 کو قتل کردینے کا منگل کو پیش آنے والا واقعہ بلاشبہ ان میں سب سے زیادہ سنگین ہے۔تاہم پاک فوج نے بڑی ہوشیاری اور چابک دستی سے تمام 33دہشت گردوں کو ہلاک اور تمام یرغمالی مسافروں کو بازیاب کرکے اپنی مہارت کا نہایت متاثر کن مظاہرہ کیا جبکہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق دہشت گرد 26 مسافروں کو آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی شہید کرچکے تھے۔ ان میں سے 18 آرمی و ایف سی سے اور 3 ریلوے اور دیگر محکموں سے تعلق رکھتے تھے جبکہ 5 عام شہری تھے۔زندہ بازیاب کرائے گئے 354 یرغمالیوں میں 37 زخمی بھی شامل ہیں۔ دہشت گردی کی اس سفاکانہ کارروائی نے جہاں ملک بھر میں تشویش اور اضطراب اور رنج و الم کے ساتھ ساتھ اس سنگین چیلنج کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے عزم کو مستحکم کیا ہے وہیں عالمی سطح پر بھی امریکہ، چین، ایران، ترکیہ، روس ،یورپی یونین و دیگر ملکوں کی جانب سے اس واردات کی سخت مذمت کے بعداقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کے بیان کی شکل میں بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت کا بھرپور مظاہرہ ہوا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے گزشتہ روزایک پریس بیان میں جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کے مطابق اراکین سلامتی کونسل نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی تمام شکلوں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ اراکین سلامتی کونسل نے دہشت گردی کے مجرموں، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت کا اظہار کیاہے۔ بیان میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔ سلامتی کونسل نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور بلاجواز ہے، خواہ اس کا محرک کچھ بھی ہو۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ریاستوں کی جانب سے جدوجہد ضروری ہے جس میں بین الاقوامی انسانی حقوق ، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون ، بین الاقوامی انسانی قانون اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس عالمی حمایت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں جاری کارروائیوں کی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے مطابق جن پڑوسی ملکوںسے مالی معاونت، تربیت، پناہ گاہوں کی فراہمی اور دوسری شکلوں میں سرپرستی کی جارہی ہے، اراکین سلامتی کونسل اور دیگر ممالک کی جانب سے انہیں سخت تنبیہ کی جائے اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے اسباب و محرکات کا بے لاگ جائزہ لے کر اور اس عمل میں وسیع تر مشاورت کا اہتمام کرکے بہتر اور نتیجہ خیز حکمت عملی اپنائے کیونکہ فی الوقت افواج پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا فتنہ قابو میں نہیں آرہا اور ملک کے دوصوبوں میں اس حوالے سے حالات روز بروز ابتر ہوتے جارہے ہیں۔