آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات!

اداریہ
16 مارچ ، 2025

زبوں حال معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں موجودہ حکومت نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)سے 7ارب ڈالر قرض پروگرام کے اجرا کی درخواست کی تھی۔جسےسخت چھان پھٹک کے بعد ستمبر2024میں منظور کرلیا گیا۔یہ قرضہ پاکستان کو تین سال کی اقساط میں ملے گا۔اس کیلئے حالیہ دنوں دوہفتے مذاکرات جاری رہنے کے بعد جمعہ کے روز پہلا دوسالہ جائزہ مثبت طور پر مکمل ہوگیا ہے۔کامیاب مذاکرات کی روشنی میں توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 2سے2.2ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کی معاشی کارکردگی پر اظہار اطمینان کے بعد منی بجٹ کے خدشات ختم ہوگئے ہیں۔مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ریٹیل اور ریئل اسٹیٹ سمیت کئی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر زور دیا جبکہ رواں مالی سال کے دوران معاشی حکمت عملی میں ضروری ترامیم لانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔آئی ایم ایف نے امیر طبقے پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنےاور بڑے زمینداروں سے انکم ٹیکس کی وصولی کا مطالبہ دہرایاجبکہ زرعی انکم ٹیکس کیلئے قانون سازی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اب مزید مذاکرات آن لائن ہوں گے،جس کے ایجنڈے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کاکام شامل ہے۔متذکرہ کامیاب مذاکرات کی تکمیل بلا شبہ ایک اہم حکومتی کارنامہ ہےتاہم یہ واضح رہے کہ جوں جوں آئی ایم ایف سمیت دیگرعالمی اداروں،ممالک اور مالیاتی تنظیموں سے نئے قرضے مل رہے ہیں،ان کا بمع سود معیشت پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے،جن کی موجودہ مالیت72ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف موجودہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کو بجا طور پرآخری دیکھنا چاہتے ہیں،جسے پورا کرنے کی ہرممکن سعی کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔