پولیس اہلکاروں نے غریب پھل فروش کے ٹھیلہ سے مفت پھل اٹھائے ،تمام اہلکار معطل

16 مارچ ، 2025

کراچی(اسٹاف روپورٹر)پولیس اہلکاروں نے رمضان المبارک کے مہینہ میں بھی پتھارے داروں سے لوٹ مار کا سلسلہ ختم نہیں کیا،قلندریہ چوک کے قریب پولیس موبائل میں اہلکاروں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نے غریب پھل فروش کےٹھیلہ سے مفت میں پھل اٹھائے جس پر پھل فروش کی جانب سےاحتجاج کرنے پر انہیں اسکی کمسن بچی کے سامنے گالیاں بکی گئیں اور گھسیٹ کر صفحپولیس موبائل میں ڈالا گیا،ایس ایس پی سینٹرل نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے موبائل میں موجود تمام اہلکاروں کو معطل کردیا ،تفصیلات کے مطابق شاہراہ نور جہاں تھانہ کی حدود نارتھ ناظم آباد قلندریہ چوک کے قریب غریب پھل فروش کی جانب سے ٹھیلہ پر خربوزہ فروخت کررہا تھا،شاہراہ نور جہاں تھانہ کی پولیس موبائل میں سوار پولیس اہلکار ظفر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پھل فروش کے ٹھیلے سے بغیر پیسے دئے خربوزہ اٹھا لیا ،جس پر پھل فروش نے پھل کے پیسے مانگے تو پولیس اہلکار ظفرنے پھل فروش کو غلیظ قسم کی گالیاں بکنا شروع کردی اورپھر اسے گھسیٹ کر پولیس موبائل میں ڈالا گیا اس موقع پر پھل فروش کی کمسن بچی جو اپنے والد کے ساتھ خربوزہ کے ٹھیلہ پر موجود تھی پولیس اہلکاروں کی والدکو گالیاں بکنے اور گھسیٹ کر پولیس موبائل میں ڈالتے دیکھ کر بلک بلک کر رونے لگی،واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر ایس ایس پی سینٹرل نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے موبائل میں موجود تمام اہلکاروں کو معطل کردیا اورمعطل اہلکاروں کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کے لئے انکوائری کا بھی حکم دیا ہے،ترجمان ضلع وسطی پولیس کے مطابق معطل اہلکاروں میں کانسٹیبل ظفر، ذوالفقار، نسیم اور ڈرائیور عبداللہ شامل ہیں، موبائل میں موجود اہلکاروں نے قلندریہ چوک پر پھل والے سے بغیر پیسے دیے پھل لیے اور پھل والے کے منع کرنے پر اس سے بدتمیزی کیاس قسم کا فعل ناقابلِ برداشت ہے اور محکمہ کی ساخت کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہےاہلکاروں کو کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔شہر میں جگہ جگہ موجود پتھارے اور ٹھیلہ والوں سے معلوم ہوا ہےکہ روزانہ پولیس موبائل ان سے پیسے وصول کرتی ہے اور ٹھیلہ پر مووجد مختلف اشیاء بھی مفت میں اٹھالیتی ہے اور منع کرنے پر تھانے لیجانے کی دھمکیاں ادی جاتی ہے۔