موبائل فون اور اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں جنون کا باعث

16 مارچ ، 2025

کراچی (محمد ندیم/ اسٹاف رپورٹر) تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فون اور اسکرین کے زیادہ استعمال سے بچوں میں جنون اور دیوانگی کی علامات پیدا ہوتی ہیں،سوشل میڈیا ، گیمز کے زیادہ استعمال سے نیند میں کمی کا امکا ن ہوتا ہے ۔سان فرانسسکو کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال کم عمر بچوں میں جنون اور دیوانگی کی علامات کو بہت زیادہ بڑھادیتا ہے۔جنرل سوشل سائیکاٹری میں شائع شدہ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ امریکا میں ملک گیر سطح پر 10اور 11سال کی عمر کے 9,243بچوں کے نمونوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فون اور اسکرین کے زیادہ استعمال سے بچوں میں جنون اور دیوانگی کی علامات پائی گئیں۔جوان العمر افراد جو اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا اور وڈیو گیمز میں گزارتے ہیں ان میں نیند کی کمی کا امکان پایا جاتا ہے۔ان میں جنون اور دیوانگی کے رویے پائے جاتے ہیں جو کہ بائی پولر اسپیکٹرم ڈس آرڈر کو ظاہر کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق بچوں کے لیے ہفتے میں تین گھنٹے اسکرین پر گزارنا رویے اور ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کیل گینسن نے کہا کہ اس تحقیق سے اسکرین کے استعمال کی صحتمندانہ استعمال کی عادات اجاگر ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی تحقیق سے رویوں اور اسکرین کے استعمال سے متعلق جنون اور دیوانگی کی علامات اور دماغی میکنزم کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کی روک تھام کی کوششوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ بچے اور چھوٹی عمر کے افراد جو چار سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں وہ 250اور275نوٹی فکیشنز روزانہ وصول کرتے ہیں۔بوسٹن چلڈرن اسپتال کی ماہر نفسیات ڈاکٹرکنیشا سنکلر میک برائڈ نے فوکس نیوز ڈیجیٹل سے انٹرویو میں کہا ہے کہ اپنے فرصت کے وقت کے گھنٹوں اپنے فون پر گزارنے والے بچوں میں مسائل ہوسکتےہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے ڈپریشن کی علامات اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل ہوتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس میں بہت کچھ مثبت بھی ہوتا ہے،سیکھنے اور تفریح کاعنصر ہوتا ہے،اس لیے ہمیں ان دونوں چیزوں کو متوازن رکھنا ہے۔انہوں نےنشاندہی کی کہ اس سلسلے میں کچھ سوشل میڈیا ایپس بنائی گئی ہیں ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اس کا غلط استعمال کام اور اسکول کے دوران خراب کارکردگی کی طرف لے جاسکتا ہےاور نیند اور تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔انہوں نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ والدین اور خاندان کے دیگر بزرگ بچوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایپس کو سیکھیں اور بچوں کو اس کے منفی اثرات کے بارےمیں سکھائیں۔والدین اسے استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا میں اپنےفون کا زیادہ استعمال کررہا ہوں؟کیا میں سوشل میڈیا کا زیادہ عادی ہوگیا ہوں؟ماہرین نے نصیحت کی ہے کہ ٹیکنالوجی اور دیگر سرگرمیوں کے درمیان صحتمندانہ توازن کو یقینی بنایا جائے،فلم دیکھنے جائیں،چہل قدمی کے لیے جائیں،اور کھیلیں اور دوستوں کے ساتھ رہیں،کچن میں اپنی فیملی کے ساتھ مصروف رہیں اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ جب بچے کچھ نہیں کررہے ہوتے تو وہ پرسکون ہوتے ہیں۔