پاکستانیوں پر امریکی سفری پابندیوں کا امکان، ٹرمپ انتظامیہ نے 43 ممالک کی فہرست تیار کرلی، متاثرہ ممالک 3 کیٹیگری میں تقسیم ہونگے

16 مارچ ، 2025

واشنگٹن (اے ایف پی، جنگ نیوز) پاکستانیوں پر امریکی سفری پابندیون کا امکان، ٹرمپ انتظامیہ نے 43 ممالک کی فہرست تیار کرلی، امریکی انتظامیہ ان ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ مختلف ممالک کو تین مختلف کیٹیگریز میں شامل کیا جائے گا۔ پہلی کیٹگری کو ریڈ کا نام دیا گیا ہے جس میں افغانستان، بھوٹان، کیوبا، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، صومالیہ، سوڈان، شام، وینزویلا اور یمن شامل ہیں، ان ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ دوسری کیٹگری کو اورنج کا نام دیا گیا ہے جن میں بیلاروس، اریٹیریا، ہیٹی، لاؤس، میانمار، پاکستان، روس، سیرالیون، جنوبی سوڈان اور ترکمانستان سمیت 10 ممالک شامل ہیں، ان ممالک کے شہریوں کے ویزے سختی سے محدود کئے جائیں گے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اورنج کیٹگری میں شامل ممالک کے امیر کاروباری مسافروں کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن تارکین وطن یا سیاحتی ویزوں پر سفر کرنے والے افراد کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اورنج لسٹ میں شامل ممالک کے شہریوں کو ویزا حاصل کرنے کے لئے ذاتی طور پر انٹرویوز بھی دینا ہوں گے۔ اسی طرح 22 ممالک کو یلو لسٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ پیلی فہرست میں شامل ممالک کے پاس امریکی خدشات کو دور کرنے لئے 60 روز کا وقت ہوگا اور دوسری صورت میں انہیں مزید سخت کیٹگری میں شامل کردیا جائے گا۔ نیو یارک ٹائمز نے بتایا کہ انہیں امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فہرست محکمہ خارجہ نے کئی ہفتے پہلے تیار کی تھی، اور اس کے وائٹ ہاؤس پہنچنے تک تبدیلیوں کا امکان تھا۔" امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی اقدامات میں پناہ گزینوں کے داخلہ پروگرام اور تقریباً تمام غیر ملکی امداد کو منجمد کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے امریکی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے ممالک کی نشاندہی کرے جن کے شہریوں کے داخلے پر حفاظتی بنیادوں پر پابندی لگائی جائے، یہ اقدام ان کی پہلی مدت کے نام نہاد "مسلم پابندی" کے مترادف ہے۔ اس پابندی میں 2017 میں ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس نے بین الاقوامی غم و غصے کو بھڑکا دیا تھا جبکہ امریکا کی مقامی عدالتوں نے اس کیخلاف فیصلے دیئے تھے۔ عراق اور سوڈان کو فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا، لیکن 2018 میں سپریم کورٹ نے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا اور وینزویلا کے لئے پابندی کے بعد کے ورژن کو برقرار رکھا تھا۔