پاپائے اعظم کا انتقال!

اداریہ
23 اپریل ، 2025

رومن کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پاپائے اعظم فرانسس کےانتقال سے غریبوں کیلئے سماجی انصاف پر زور، پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع، بین المذاہب ہم آہنگی ومکالمے کی وکالت اور غزہ میں ڈھائے جانیوالے مظالم کے خاتمے کی ایک توانا آواز بظاہر خاموش ہوگئی مگر ان کی طرف سے کئے گئے اقدامات اور کاوشوں کی صورت میں اس آواز کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی۔ ویٹی کن سٹی کے بیان کی صورت میں پوپ فرانسس کے پیر کی صبح انتقال کی خبر کے بعد سے دنیا بھرسے آنیوالےپیغامات کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر پیوٹن، برطانیہ کے بادشاہ چارلس، صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف سمیت رہنمائوں کی تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ بیونس آئرس میں پیدا ہونے والے پوپ فرانسس کا اصل نام خورخے ماریو بیر گولیو تھا۔ 2013ء میں پوپ بینڈکٹ کے استعفے کے بعد پاپائے روم کے منصب پر فائز ہونیوالے پہلے لاطینی امریکی رہنماکیتھولک چرچ کے روایتی مزاج سے ہٹ کر اصلاحات کی صورت میں نئی روشنی لیکر آئے ۔قبل ازیں وہ ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کے آرچ بشپ کے طور پر اپنی سادگی، عوامی زندگی اور خدمت کے جذبے کےحوالے سے پورے براعظم میں مشہور تھے۔ 12سالہ دور میں اسلام اور مسیحیت کے درمیان امن و تعاون کے فروغ میں اہم کرداررہا، سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کی مذمت کی۔ طویل بیماری کے بعد اتوار کے روز ایسٹر سنڈے کے دیدار عام میں ان کی موجودگی میں پڑھ کر سنائے گئے ان کے پیغام میں غزہ میں جنگ بندی کی بار بار کی گئی اپیل پھر دہرائی گئی تھی۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے درست کہا کہ آج فلسطینی عوام ایک وفادار دوست کو کھو بیٹھے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پوپ فرانسس کی جگہ لینے والے نئے پوپ ان کی روایات اور کاوشیں جاری رکھیں گے۔