نیا مذہبی اتحاد

اداریہ
23 اپریل ، 2025

جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی نے اسرائیل کے خلاف اور غزہ کیلئے مجلس اتحاد امت قائم کر دیا ہے جس کے تحت 27اپریل کو مینار پاکستان پر بڑا جلسہ اور مظاہرہ ہو گا۔تمام مذہبی پارٹیاں اور تنظیمیں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کریں گی۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ فلسطین کی صورت حال امت مسلمہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ان کے لیے ملک گیر بیداری مہم چلائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو اپنے حکمرانوں کے رویے سے شکایت ہے کہ وہ اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکے۔یہ اچھی بات ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے نام پر انٹرنیشنل فوڈ چین پر حملے کرنا اور تشدد کو ہوا دینا غلط ہے اور ایسا کرنے سے ملک کا اپنا نقصان ہے۔ہماری سیاست میں اتحادوں کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔جے یو آئی اور جماعت اسلامی ماضی میں بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مشترکہ کاوشیں کر چکی ہیں۔اگرچہ دونوں جماعتوں میں گرینڈ الائنس پر اتفاق نہیں ہوسکا اور وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی تاہم انہوں نے قومی وعوامی مسائل پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی گنجائش رکھی ہے۔پریس کانفرنس میں صوبوں کے وسائل اور عوام کی ملکیت،نہروں کے مسئلےودیگرامورپر اظہار خیال کیا گیا جو اس طرف اشارہ بھی ہے کہ مستقبل میں یہ پلیٹ فارم اپوزیشن کے بڑے اتحاد کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ن لیگ کے راہنما ملک محمد احمد خان نے نئے اتحاد کو سیاسی طور پر خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔