سینیٹ، متنازع کینالز پر PTI کا احتجاج، پیپلز پارٹی کا و اک آؤٹ، آئین کے مطابق بات ہوگی، وزیر قانون

23 اپریل ، 2025

اسلام آباد (ایجنسیاں)سینیٹ میں بھی متنازع کینالزکے معاملے کی گونج ‘پی ٹی آئی کا شدید احتجاج ‘شورشرابہ ‘پانی چور نامنظور‘ پیپلزپارٹی کی منافقت نامنظور کے نعرے‘ایوان مچھلی بازار بن گیا‘سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا ‘ان کے ساتھ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے سینیٹرز نے بھی دھرنا دے دیا‘کینالز معاملے پر پیپلزپارٹی نے بھی احتجاج اورایوان سے واک آؤٹ کیاجبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدرایمل ولی خان نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آپ میں بات سننے کی ہمت نہیں تو ایسی قانون سازی نہیں چل سکتی۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑکا کہناتھاکہ کینالز کے معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق بیٹھ کر بات ہوگی‘سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا رویہ بڑا منافقانہ ہے‘سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ بات بہت آگے نکل چکی ہے‘ہمیں دیوار سے لگائیں گے تودمادم مست قلندر ہوگا‘ فلک ناز چترالی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست وڑگئی۔تفصیلات کے مطابق منگل کو سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نےکینالزکے معاملے پر شدید احتجاج اور شور شرابا کیا‘وزیر قانون کی تقریر کے دوران شدید نعرے بازی کی جاتی رہی‘اپوزیشن نے نکتہ اعتراض پر وقت نہ دینے پر بھی احتجاج کیا۔پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے پیپلزپارٹی کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور پیپلزپارٹی کی سیاست کو منافقت پر مبنی قرار دینے والے نعرے لگائے گئے‘اجلاس میں اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر شہادت اعوان کو کورم کی نشاندہی کا حکم دیا، بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کورم پورا ہے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کینالز کے معاملے پر قانون اور آئین کے مطابق بیٹھ کر بات ہوگی، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہیں‘ احتجاج کے بجائے بات چیت کریں‘اس سلسلے میں کثیر جماعتی مشاورت کی تجویز بھی زیرغور ہے‘ اس معاملے پر کوئی چیز بلڈوز نہیں ہورہی ہے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا میں خیبرپختونخواہ کو اس کے حق سے محروم کیا گیا‘جس طرح سے اپوزیشن کو ایک سائیڈ پر کیا جارہا ہے، نہ ان کی قراردادیں ایجنڈے میں شامل کی جاتی ہیں، نہ ان کی تحریکیں شامل کی جاتی ہیں، اور نہ انہیں کوئی وقعت دی جاتی ہے، یہ درست نہیں‘جب آئین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایسی مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں جن سے نمٹنے کے لیے آپ مزید غلطیاں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا رویہ بڑا منافقانہ ہے، صدر صاحب نے جولائی میں اس منصوبے پر اتفاق کیا اور پھر تقریر میں مخالفت بھی کی۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ آپ سندھ سے پانی کھینچیں گے تو کیا ہم بات نہیں کریں گے، پانی کا مسئلہ کیوں متنازع کیا جارہا ہے؟ جب آپ ہمیں دیوارسے لگائیں گے تو دمادم مست قلندر ہوگا‘ہم سخت سیاست تب ہی کرتے ہیں جب ہمیں دیوار سے لگایا جاتا ہے۔شیری رحمان نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانےکا بھی مطالبہ کیا۔یوسف رضاگیلانی نے رولنگ دی کہ سینیٹرثانیہ نشتر کا استعفیٰ قبول کرکے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے الیکشن کرانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کام ہے‘ بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے اجلاس 25 اپریل تک ملتوی کردیا۔