اسلام آباد(مہتاب حیدر)ایف بی آر کے زیرِانتظام بننے والا بے نامی ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی (BAA) گزشتہ گیارہ ماہ سے غیرفعال ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھی جا رہی ہے کہ ملک کی بالائی ایک فیصد بااثر اشرافیہ کے پاس قومی دولت کا 22 فیصد حصہ موجود ہے۔باوثوق ذرائع نے "دی نیوز" کو تصدیق کی کہ گزشتہ 11 ماہ کے دوران BAA کے تین ممبران کی تعیناتی کے لیے کئی بار سمریاں ارسال کی گئیں، اعتراضات کے بعد واپس آئیں، اور پھر دوبارہ بھجوائی گئیں، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے فائلیں دبتی رہیں۔ وزیر اعظم نے اصولی طور پر ان تعیناتیوں کی منظوری دے دی تھی، تاہم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ معاملہ 11 ماہ میں ایک بار بھی ایجنڈے پر نہیں آ سکا۔اگرچہ ایف بی آر کا اینٹی بے نامی انیشی ایٹو (ABI) کسی حد تک سرگرم رہا، لیکن چونکہ ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی غیرفعال ہے، اس لیے ایف بی آر کسی بھی ریفرنس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکا۔
اسلام آباد ڈیجیٹل اکانومی میں نیا سنگ میل عبور کرلیاگیا۔پاکستانی فری لانسرز نے تاریخ رقم کرلی۔پاکستانی فری...
لاہور پنجاب بجٹ : امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے اربوں روپے مختص۔فرانزک سسٹم، چیک پوسٹس اور اے...
اسلام آبادحکومت کا ارادہ ہے کہ وہ آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 23.378 ارب ڈالر کا قرضہ لے گی مالی سال 2026-27...
لاہور آ ئند ہ مالی سال کے بجٹ میں پنجاب میں ایف بی آر کی طرز پر ایک ادارہ بنائیں گے جہاں تمام ٹیکسز کو یکجا...
انصار عباسیاسلام آباد : وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات سے متعلق قیاس...
کراچی فارن پالیسی میگزین کا کہنا ہے ایران جنگ میں کوئی فاتح نہیں، سب ہار گئے، امریکہ اور اسرائیل کی عسکری...
اسلام آ باد پاکستان کی بیرونی فنڈنگ میں11 ماہ کے دوران 76 فیصد کااضافہ ہوگیا۔ جولائی 2025 تا مئی 2026 میں 12ارب11...
کراچی بلومبرگ کا شائع کردہ ایران امریکی معاہدے کا متن غلط اور نامکمل قرار، ایرانی ذرائع کا کہنا ہے مغربی...