لاہور(رپورٹ : آصف محمود بٹ ) پنجاب حکومت نے قانون نافذ کرنے والے نظام میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس میں خواتین کو قیادت سونپ کر ایک نیا اور قابل فخر باب رقم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں شروع ہونے والی اس تاریخی اصلاحات کا مرکز خواتین کو بااختیار بنانا، شفاف ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا، اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔PERA کی اولین ترجیحات میں خواتین کی شمولیت سرفہرست ہے۔ سینکڑوں خواتین افسران کو بطور انفورسمنٹ آفیسرز (EOs) اور انویسٹی گیشن آفیسرز (IOs) بھرتی کیا جا رہا ہے، جو مرد افسران کے شانہ بشانہ میدان عمل میں اتریں گی۔ ان خواتین کو قانونی ضوابط، ڈیجیٹل شواہد اکٹھا کرنے، عوامی رابطے، اور غیر مہلک نفاذی تکنیکوں پر تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے بہترین تربیتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ان افسران کو نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر مضبوط بنایا جا رہا ہے بلکہ انہیں انسانی حقوق، اخلاقیات، اور عوامی خدمت کے اصولوں پر بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ PERA کے بنیادی ڈھانچے کی خاص بات اس کا مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام ہے، جو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) اور اس شعبے کے معروف ایڈوائزرزکے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں HRMIS، آن لائن جاب پورٹل، لرننگ مینجمنٹ سسٹم، اور شکایات و مقدمات کے مؤثر انتظامی نظام شامل ہیں۔ تمام آپریشنز باڈی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیے جائیں گے تاکہ شفافیت اور احتساب یقینی بنایا جا سکے۔ ایک جدید ERP سسٹم اور AI انٹیگریشن کے ذریعے کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ماحولیاتی تحفظ کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے PERA نے پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی (PEECA) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ انفورسمنٹ اسٹیشنز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا سکے۔