لیویز کو ختم کرنے کا فیصلہ سراسر غیر آئینی اور ناقابلِ قبول ہے ، پشتونخوانیپ

24 اپریل ، 2025

کوئٹہ (پ ر)پشتونخوا نیپ کے صوبائی پریس ریلیز میں فارم 47کے تحت قائم کردہ اور ریاستی اداروں کی پشت پناہی سے مسلط کردہ صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کی مذمت کی گئی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع کوئٹہ، گوادر، لسبیلہ اور حب کے اضلاع میں لیویز فورس کو ختم کر کے ان کے تمام اثاثے غیر قانونی طور پر پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس، جو ایک غیر منتخب وزیر اعلیٰ اور ریاستی ادارے کے سربراہ کی مشترکہ صدارت میں ہوا، نہ صرف آئینی و قانونی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ پارلیمان اور عوامی رائے کی صریحاً توہین بھی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے پارلیمانی نظام میں وزیراعظم ملکی سطح پر اور وزیراعلیٰ صوبائی سطح پر چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں، مگر اب دیدہ دلیری کے ساتھ ایسے نوٹیفکیشن جاری کیے جا رہے ہیں جن میں ریاستی اداروں کو فیصلہ سازی میں شریک دکھایا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں لیویز فورس کو ختم کر کے ان اضلاع میں پولیس میں شامل کرنے اور لیویز کے اثاثہ جات پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو سراسر غیر آئینی اور ناقابلِ قبول ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ لیویز فورس ایک عوامی اور صوبے کے اپنی قومی فورس ہے جس کو برقرار رکھنے اور انہیں جدید بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے صوبے کی تمام جمہوری سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بھرپور جدوجہد کی تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں لیویز کے خاتمے اور بی ایریا کو اے ایریا میں ضم کرنے کے فیصلے کو 2010 میں واپس لیا گیا تھا، اور اب ایک بار پھر اسی پالیسی کو نئے انداز میں مسلط کیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکومت کا یہ اقدام صوبے کو ایک "پولیس اسٹیٹ" میں تبدیل کرنے کی سازش اور صوبے کے اقوام کو اپنے ہی عوامی، قومی فورس سے محروم کرنے کی ناروا پالیسی ناقابل قبول ہے،جبکہ پہلے ہی سی ٹی ڈی جیسے جبر و ظلم کے ادارے عوام کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہیں۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جب ماضی میں تمام سیاسی جماعتوں نے بی ایریا اور لیویز فورس کے حق میں مؤقف اختیار کیا تھا، تو اب ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے کہ "فارم 47 حکومت" اور ان کے سرپرست عناصر دوبارہ لیویز کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کی منظوری بھی پشتون اور بلوچ اقوام کے خلاف ایک قومی جرم ہےاور جو جماعتیں یا ارکان اس پر خاموش رہے، وہ تاریخ میں قومی غداروں کی صف میں شمار ہوں گے اور عوام کبھی انہیں معاف نہیں کریں گے۔